امریکی ڈالر کی تاریخ 165سال بعد بدل گئی
امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، نئے چھپنے والے کرنسی نوٹوں پر اب سیکریٹری خزانہ کے ساتھ ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی شامل ہوں گے۔
واشنگٹن : امریکہ نے اپنی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی مالیاتی تاریخ کی سب سے بڑی اور انوکھی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ 1861 سے رائج ڈیڑھ صدی پرانی روایت کو ختم کرتے ہوئے اب امریکی ڈالروں پر صدرِ مملکت کے دستخط بھی ثبت کیے جائیں گے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق، نئے چھپنے والے کرنسی نوٹوں پر اب سیکریٹری خزانہ کے ساتھ ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط بھی شامل ہوں گے۔
گزشتہ 165 سالوں سے یہ روایت چلی آ رہی تھی کہ کاغذی کرنسی پر صرف ‘یونائیٹڈ سٹیٹس ٹریژرر’ کے دستخط ہوتے تھے، مگر اب پہلی بار کسی برسرِاقتدار صدر کے دستخط قومی کرنسی کا حصہ بنیں گے۔
اس تبدیلی کا باقاعدہ آغاز رواں سال جون سے ہوگا، جب صدر ٹرمپ اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے دستخطوں والے پہلے 100 ڈالر کے نوٹ منظرِ عام پر آئیں گے۔
وزارتِ خزانہ نے مزید بتایا کہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کو یادگار بنانے کے لیے صرف نوٹ ہی نہیں بلکہ سونے کا ایک خصوصی یادگاری سکہ بھی جاری کیا جائے گا۔ اس سکے کے ڈیزائن کی منظوری دے دی گئی ہے، جس پر صدر ٹرمپ کی تصویر نقش ہوگی۔
ماہرینِ معیشت اس اقدام کو امریکی مالیاتی شناخت میں ایک بڑی ‘انتظامی اور فکری تبدیلی’ قرار دے رہے ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کے مخصوص طرزِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔