Uncategorized

حسین ساگر میں بچی کو بچانے والے شہریوں کو حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر نے تہنیت پیش کرتے ہوئے نقد انعامات سے نوازا

طلاعات کے مطابق، حال ہی میں خاتون اپنی دونوں بیٹیوں کو ٹینک بنڈ لے کر پہنچی۔  اس نے بیمار چھ سالہ بچی کو حسین ساگر میں دھکیل دیا اور موقع سے فرار ہوگئی

حیدرآباد: حسین ساگر میں ڈوب رہی چھ سالہ معصوم بچی کی جان بچانے والے تین شہریوں کو حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار، آئی پی ایس نے بدھ کے روز بشیرباغ میں واقع کمشنریٹ دفتر میں تہنیت پیش کی۔ انہوں نے آٹو ڈرائیور فخرالدین، خانگی ملازم کے بال کرشنا اور تاجر محمد افضل کو شال پوشی کرتے ہوئے نقد انعامات دیے اور ان کی بہادری کی ستائش کی۔

بوئن پلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی دو بیٹیاں ہیں، جن کی عمریں آٹھ اور چھ سال ہیں۔ چھ سالہ بچی گزشتہ دو ماہ سے بیمار تھی۔ علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت نہ کر پانے کے باعث ماں شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہوگئی۔ اس نے اپنی ہی معصوم بیٹی کی جان لینے کا سنگ دلانہ فیصلہ کرلیا۔

اطلاعات کے مطابق، حال ہی میں خاتون اپنی دونوں بیٹیوں کو ٹینک بنڈ لے کر پہنچی۔  اس نے بیمار چھ سالہ بچی کو حسین ساگر میں دھکیل دیا اور موقع سے فرار ہوگئی۔

پانی میں گرنے کے بعد بچی نے وہاں موجود بانس کی ایک لاٹھی پکڑ لی اور اپنی جان بچانے کے لیے چیختے ہوئے مدد کی فریاد کرنے لگی۔’’مجھے بچاؤ، میری ماں نے مجھے پانی میں دھکیل دیا ہے۔‘‘

اسی وقت بورابنڈہ کے موتی نگر سے تعلق رکھنے والے کے بال کرشنا نے بچی کی چیخیں سن کر فوری طور پر سڑک پر موجود لوگوں کو آواز دے کر متوجہ کیا۔

عین اسی وقت، بیگم پیٹ کے پرکاش نگر میں رہنے والے آٹو ڈرائیور فخرالدین اپر ٹینک بنڈ سے گزر رہے تھے۔ وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر انہوں نے اپنا آٹو روک دیا۔ پانی میں ڈوبتی ہوئی بچی کو دیکھتے ہی وہ بلا تاخیر پانی میں کود پڑے۔ ناچارم سے تعلق رکھنے والے محمد افضل کی مدد سے بچی کو پانی سے باہر نکال کر سڑک تک پہنچایا گیا۔

اطلاع ملتے ہی پٹرولنگ پولیس وہاں پہنچ گئی اور بچی کو علاج کے لیے گاندھی اسپتال منتقل کردیا۔ اس واقعے پر دومل گوڑہ پولیس نے بچی کی ماں کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

پولیس کمشنر کی جانب سے تینوں شہریوں کی ستائش

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ آج کے دور میں بعض لوگ کسی شخص کو مصیبت میں دیکھ کر مدد کرنے کے بجائے اپنے موبائل فون سے ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں ان تینوں شہریوں نے جس بہادری اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا، وہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے بال کرشنا کی جانب سے لوگوں کو فوری طور پر خبردار کرنا اور فخرالدین و محمد افضل کا پانی میں کود کر معصوم بچی کی جان بچانا قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی اسی طرح سماجی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔

سجنار نے مزید کہا کہ بچوں کی بیماری اور مالی مشکلات والدین کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں، لیکن مایوسی کے عالم میں اپنی ہی اولاد کی جان لینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مشکل حالات میں ہمت ہارنے کے بجائے معاشرے اور سرکاری اداروں سے مدد طلب کرنی چاہیے اور اس طرح کے سنگ دلانہ فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مصیبت میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے معاشرہ ہمیشہ آگے آتا ہے۔ انسانی زندگی سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل سی پی (لاء اینڈ آرڈر) تپشیر اقبال، آئی پی ایس، ایڈیشنل سی پی (کرائمز) ایم سری نواسولو، آئی پی ایس، جوائنٹ سی پی (ٹریفک) جوئل ڈیوس، آئی پی ایس، سکندرآباد زون کی ڈی سی پی رکشیتا کرشن مورتی، آئی پی ایس، گاندھی نگر کے اے سی پی یادگیری، دومل گوڑہ کے انسپکٹر امجد علی اور دیگر پولیس عہدیدار موجود تھے۔