ڈاکٹر محمد منظور عالم کا انتقال: علمی و فکری دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان
اسی سلسلے میں ممبئی کے حج ہاؤس میں ادارہ دعوۃ السنۃ کے زیرِ اہتمام ایک باوقار تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کی۔ نشست میں جید علماء، دانشوروں اور مختلف ملی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ممبئی: آل انڈیا ملی کونسل کے قومی جنرل سیکرٹری، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز (IOS) کے بانی اور ممتاز دانشور ڈاکٹر محمد منظور عالم کے انتقال کو علمی، فکری اور ملی حلقوں نے ایک عہد کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے انتقال پر ملک بھر میں رنج و غم کی فضا پائی جاتی ہے۔
اسی سلسلے میں ممبئی کے حج ہاؤس میں ادارہ دعوۃ السنۃ کے زیرِ اہتمام ایک باوقار تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کی۔ نشست میں جید علماء، دانشوروں اور مختلف ملی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ نشست اس وقت منعقد ہوئی جب مولانا انیس الرحمن قاسمی، مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی اور مفتی محمد نافع عارفی ادارہ دعوۃ السنۃ کے بانی مولانا محمد شاہد ناصری کی دعوت پر ممبئی میں منعقدہ سہ روزہ ’’کل ہند مسابقۃ القرآن الکریم‘‘ میں شرکت کے لیے موجود تھے، جہاں ڈاکٹر منظور عالم کے انتقال کی افسوسناک خبر موصول ہوئی۔
اپنے صدارتی خطاب میں مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنی پوری زندگی ذاتی مفادات کے بجائے ملت کی فکری رہنمائی اور سماجی ذمہ داریوں کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے 1986 میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کا قیام عمل میں لاکر ملت کو جذباتی سیاست کے بجائے دلیل، شعور اور علمی استدلال کی راہ دکھائی۔ انہوں نے ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ اتحاد، جمہوری اقدار اور فکری توازن کو فروغ دیا۔
ملی کونسل کے قومی سیکرٹری مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے ڈاکٹر منظور عالم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم و دانش کی دنیا میں مسلمانوں کے ایک مضبوط قائد تھے، جنہوں نے ہندوستان میں مسلم تھنک ٹینکس کے قیام اور فکری سمت کے تعین میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ فکری بلندی کے باوجود ملت کے اجتماعی موقف سے کبھی الگ نہیں ہوئے اور ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے علمبردار رہے۔
مفتی عابدین نے مزید کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم زمانے کی نبض پہچاننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ مستقبل کے چیلنجز کا ادراک کرکے پیش بندی اور حکمتِ عملی تیار کرتے تھے، جس کا مظہر ان کا علمی و تحقیقی سرمایہ ہے۔
ملی کونسل بہار کے جنرل سیکرٹری مفتی محمد نافع عارفی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم فکری تاریکیوں میں امید کی کرن تھے۔ ان کی بے باک، غیر جذباتی اور جرات مندانہ فکر انہیں منفرد مقام عطا کرتی تھی۔ ان کا انتقال ایک ایسا خلا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں، تاہم ان کے قائم کردہ ادارے اور علمی ورثہ ان کی اصل میراث ہیں۔
ادارہ دعوۃ السنۃ ممبئی کے بانی مولانا محمد شاہد ناصری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی وفات محض ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے فکری دور کے اختتام کے مترادف ہے۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ ملت اور ملک کی فکری سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تعزیتی نشست میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے ممتاز علماء کرام، جن میں مفتی اشفاق قاضی، مولانا سعید الرحمن قاسمی، مفتی ساجد ناصری، مفتی مجتبیٰ قاسمی، مفتی مختار قاسمی، مولانا ہدایت اللہ عارفی، قاری جاوید اور دیگر شامل تھے، نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔
پروگرام کی نظامت مولانا شمیم اختر ندوی نے انجام دی۔ نشست کے اختتام پر ڈاکٹر محمد منظور عالم کے لیے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی خصوصی دعا کی گئی، جس کے ساتھ ہی تعزیتی پروگرام اختتام پذیر ہوا۔