تلنگانہ

چکن اور انڈوں کی قیمت میں زبردست اضافہ، عام آدمی کی جیب کا بوجھ بڑھ گیا

گوشت خوروں کے لئے چکن اپنی آسانی اور دستیابی کی وجہ سے پسندیدہ غذا رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس کی قیمتوں نے متوسط طبقہ کو پریشان کر دیا ہے۔ پچھلے سال دسہرہ کے موقع پر جو چکن 220 روپے فی کلو تھا، اب وہ 300 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبزیوں کے بعد اب گوشت کی قیمتوں نے بھی عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ نے عام آدمی کی جیب پر بوجھ بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے پروٹین سے بھرپور یہ غذا اب دسترخوان سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ریاست میں چکن کی قیمتیں سونا چاندی کی طرح تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ

گوشت خوروں کے لئے چکن اپنی آسانی اور دستیابی کی وجہ سے پسندیدہ غذا رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس کی قیمتوں نے متوسط طبقہ کو پریشان کر دیا ہے۔ پچھلے سال دسہرہ کے موقع پر جو چکن 220 روپے فی کلو تھا، اب وہ 300 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبزیوں کے بعد اب گوشت کی قیمتوں نے بھی عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔


پولٹری فارم مالکان اور تاجروں کے مطابق اس اضافہ کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں۔ سردیوں کے موسم میں مرغیوں کے فارموں میں انڈوں کی پیداوار قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے جس سے طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا ہے۔


میڈارم سمکا۔سارلماجاترا اور رمضان جیسے بڑے تہواروں کی آمد کی وجہ سے چکن کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مرغیوں کی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ نے فارم مالکان کی لاگت میں اضافہ کردیا ہے۔

چوزوں کی قیمت، جو پہلے 15 سے 30 روپے تھی، اب بڑھ کر 60 روپے ہو گئی ہے۔ صرف گوشت ہی نہیں بلکہ غریبوں کے لئے پروٹین کا سب سے سستا ذریعہ انڈابھی اب مہنگا ہو گیا ہے۔ ریٹیل مارکٹ میں جو انڈا 5 روپے کا تھا، اب 8 سے 9 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

30 انڈوں کی ٹرے کی قیمت 150 روپے سے بڑھ کر 240 روپے ہوگئی ہے۔قیمتوں میں اس قدر اضافہ کی وجہ سے عام مزدوروں نے انڈوں کی خریداری کم کر دی ہے اور وہ متبادل غذا کی تلاش میں ہیں۔