گروپ 1ملازمتوں پر غیریقینی کی صورتحال ختم۔تقررات کا عمل درست۔ہائی کورٹ نے سنگل بنچ کے حکم التواکو کالعدم قرارددے دیا۔
سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے اہم ریمارکس کئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ گروپ 1 پر تقررکا عمل درست ہے اور امتحانات شفاف طریقہ سے منعقد کئے گئے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ امتحان میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگیوں کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں گروپ 1 ملازمتوں کو پُرکرنے کے سلسلہ میں گزشتہ کافی عرصہ سے جاری غیریقینی کی صورتحال بالآخر ختم ہو گئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے منتخب امیدواروں کو بڑی راحت دیتے ہوئے آج ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ چیف جسٹس کی زیرقیادت بنچ نے گروپ 1 کی ملازمتوں پر تقرر کے لئے سنگل بنچ کی جانب سے لگائے گئے سابقہ حکم التوا کو کالعدم قرار دے دیا۔
سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے اہم ریمارکس کئے۔ عدالت نے واضح کیا کہ گروپ 1 پر تقررکا عمل درست ہے اور امتحانات شفاف طریقہ سے منعقد کئے گئے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ امتحان میں کسی بھی قسم کی بے قاعدگیوں کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔
واضح رہے کہ قبل ازیں بعض امیدواروں نے گروپ 1 امتحانات کے انعقاد، جوابی پرچوں کی جانچ اور بائیومیٹرک قوانین کے نفاذ میں خامیوں کا الزام لگاتے ہوئے ہائی کورٹ سے اس معاملہ کو رجوع کیا تھا۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سنگل بنچ نے گروپ 1 کے نتائج کو منسوخ کرنے کا سنسنی خیز فیصلہ سناتے ہوئے جوابی پرچوں کی دوبارہ جانچ یا ضرورت پڑنے پر دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا حکم دیا تھا اور تقررات پر روک لگا دی تھی۔
سنگل بنچ کے اس فیصلہ کو تلنگانہ پبلک سروس کمیشن اور منتخب امیدواروں نے ڈویژن بنچ میں چیلنج کیا تھا۔ چیف جسٹس کی زیرقیادت بنچ نے عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے حکم التواہٹا دیا تھا جس کے بعد حکومت نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے منتخب 562 امیدواروں کو تقرری نامے جاری کر دیئے تھے تاہم عدالت نے واضح کیا تھا کہ یہ تقررات حتمی فیصلہ کے تابع ہوں گی۔
آج آنے والے حتمی فیصلہ کے بعد اب ان 562 گروپ 1 عہدیداروں کی ملازمتوں پر منڈلاتے خطرات ٹل گئے ہیں اور وہ جلد ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔