بین الاقوامیسوشیل میڈیاقومی
ٹرینڈنگ

احرام کی سفید چادریں، لبوں پر درود و سلام، عمرہ کی روانگی سے قبل امام کا انتقال (ویڈیو)

ترکی میں ایک بزرگ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل کو چھو لینے والا ہے، جو عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہونے والے تھے، لیکن حرمین شریفین کے سفر سے قبل ہی ایئرپورٹ پر دعا اور درود و سلام پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔

کیا یہ ایمان افروز منظر ہے کہ انسان کی زبان پر اللہ کا ذکر ہو، لبوں پر نبی کریم ﷺ کے لیے درود و سلام ہو اور اسی حالت میں اس کی روح پرواز کر جائے۔ ہر مسلمان کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ زندگی کا اختتام ایمان، ذکرِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کی کیفیت میں ہو۔

ترکی میں ایک بزرگ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل کو چھو لینے والا ہے، جو عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ ہونے والے تھے، لیکن حرمین شریفین کے سفر سے قبل ہی ایئرپورٹ پر دعا اور درود و سلام پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔

68 سالہ عبداللہ اوزکان، جو صوبہ قونیہ کے ضلع بی شہر کے ریٹائرڈ امام تھے، عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والے تقریباً 180 عازمین کے قافلے کے ساتھ قونیہ ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

وہ احرام کی سفید چادریں زیب تن کیے ہوئے تھے اور اپنے ساتھی عازمین کی امامت کرتے ہوئے انہیں الوداعی دعا کرا رہے تھے۔

رات تقریباً 2 بجے تمام سفری کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد عازمین ایئرپورٹ پر جمع ہوئے۔ اس موقع پر عبداللہ اوزکان نے الوداعی دعا کرائی، کلمۂ شہادت پڑھا، تلبیہ کا ورد کیا اور پھر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پیش کرنے لگے۔

اسی دوران اچانک ان کی آواز دھیمی پڑ گئی اور وہ آگے کی جانب گر پڑے۔ وہاں موجود عازمین نے فوری طور پر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی۔ ایئرپورٹ کے طبی عملے نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور دل کی دھڑکن بحال کرنے کی کوشش بھی کی۔ بعد ازاں انہیں فوری طور پر سلجوق یونیورسٹی میڈیکل فیکلٹی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا اور اسپتال میں ان کی روح پرواز ہوگئی۔

ابتدائی اطلاعات میں ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی ہے، تاہم سرکاری طور پر موت کی حتمی طبی وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس موقع پر موجود ان کے ایک ساتھی اسماعیل گمش نے بتایا کہ عبداللہ اوزکان تقریباً 15 برس سے ان کے ساتھ کام کر رہے تھے اور واقعہ سے پہلے ان کی طبیعت بالکل ٹھیک تھی۔ ان کے مطابق وہ دعا مکمل کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کی آواز کمزور ہوئی اور وہ گر پڑے۔

ضلع بی شہر کے مفتی انس اکتاش نے عبداللہ اوزکان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک محترم دینی شخصیت قرار دیا، جنہوں نے طویل عرصے تک مقامی برادری کی دینی خدمات انجام دیں۔

عبداللہ اوزکان کی نمازِ جنازہ جمعہ کے روز ضلع کی چارشی مسجد میں ادا کی گئی، جس میں اہل خانہ، دینی شخصیات اور مقامی افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں بی شہر کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

یقیناً یہ واقعہ انسان کو زندگی کی حقیقت اور موت کی اٹل حقیقت یاد دلاتا ہے۔ سفرِ عمرہ کی تیاری، بدن پر احرام کی سفید چادریں، زبان پر کلمہ، تلبیہ اور درود و سلام، اور اسی کیفیت میں دنیا سے رخصتی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔