تلنگانہ

معذور نوجوان کی خودکشی سے قبل ویڈیو، بنڈی سنجے کے قریبی کارپوریٹر پر ہراسانی کے الزامات

ویڈیو میں خود کی شناخت شیوا کلاپلی کے طور پر کرواتے ہوئے اس شخص نے بتایا کہ وہ کریم نگر کے کسان نگر کا رہنے والا ہے اور پیدائشی طور پر معذور ہے۔ اس نے کہا کہ پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ زندگی بھر چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہوسکے گا، تاہم اس کی والدہ نے ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اس کی دیکھ بھال کی۔

حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں کریم نگر سے تعلق رکھنے والے معذور شخص نے مبینہ طور پر کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کرلی۔ خودکشی سے قبل سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار کے قریبی ساتھی اور کارپوریٹر سومیدی وینو پر اپنے خاندان کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ویڈیو میں خود کی شناخت شیوا کلاپلی کے طور پر کرواتے ہوئے اس شخص نے بتایا کہ وہ کریم نگر کے کسان نگر کا رہنے والا ہے اور پیدائشی طور پر معذور ہے۔ اس نے کہا کہ پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ زندگی بھر چلنے پھرنے کے قابل نہیں ہوسکے گا، تاہم اس کی والدہ نے ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اس کی دیکھ بھال کی۔ اس نے بتایا کہ اس کے خاندان نے ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا۔

شیوا کے مطابق، اس کا ایک بڑا بھائی اور بہن ہیں۔ اس کا بھائی نوین بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کی یوتھ ونگ سے وابستہ ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے اس کے علاج اور گھر کے اخراجات برداشت کررہا تھا۔ شیوا نے بتایا کہ بچپن سے اب تک اس کے 10 آپریشن ہوچکے ہیں اور گزشتہ سال گردے کے آپریشن کے دوران بھی بھائی نے مالی مدد کی تھی۔

شیوا نے الزام لگایا کہ بندی سنجے کے قریبی ساتھی اور کارپوریٹر سومیدی وینو گزشتہ دو برسوں سے اس کے بھائی نوین اور خاندان کو ہراساں کررہے تھے۔ اس کے مطابق، کارپوریٹر بننے سے پہلے وینو ان کے گھر آئے تھے اور نوین کو بی آر ایس چھوڑ کر ان کا ساتھ دینے کے عوض 4 لاکھ روپے کا چیک دینے کی پیشکش کی تھی۔

شیوا کا الزام ہے کہ جب اس کے بھائی نے بی آر ایس چھوڑنے سے انکار کردیا تو وینو نے دھمکی دی کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ ان کے خاندان کو پریشان کریں گے۔ اس نے مزید بتایا کہ کارپوریٹر بننے کے بعد وینو نے ان کے گھر کو منہدم کرنے سے متعلق ایک نوٹس بھی بھجوایا۔

ویڈیو میں شیوا نے اس نوٹس کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کی معذوری اور خاندان کی کفالت کے لیے بھائی کی واحد آمدنی کا ذریعہ ہونے کے باوجود انہیں مسلسل پریشان کیا جارہا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب یہ نوٹس موصول ہوا تو اس کا بھائی اور والدہ اپنی بیمار خالہ کی عیادت کے لیے گئے ہوئے تھے۔

شیوا نے سوال کیا کہ اس کے بھائی کے دو بچے ہیں، اگر ان کا گھر منہدم کردیا گیا تو ان بچوں کا کیا ہوگا؟ اس نے بندی سنجے کمار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایسے کارپوریٹرس کی حمایت کرنے کا کیا فائدہ جو معذور افراد کے خاندانوں کو بھی نہیں بخشتے؟

دوسری جانب اس واقعہ کے تعلق سے سیا‌ست ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے مادھاپور پولیس نے بتایا کہ تاحال اس معاملے میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار کا رویہ آخر کس بنیاد پر طے ہوتا ہے؟ یہ وہی بندی سنجے ہیں جنہوں نے ایک ایسے آٹو ڈرائیور کی شال پوشی کی تھی، جس کے آٹو پر مسلمانوں کے خلاف متنازعہ اور اشتعال انگیز الفاظ درج تھے۔ جب اس آٹو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو بندی سنجے نے نہ صرف اس آٹو ڈرائیور کی گلپوشی اور شال پوشی کی بلکہ اسے ایک نیا آٹو بھی خرید کر دیا، جس پر وہی متنازعہ الفاظ درج کروائے گئے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ایک معذور ہندو نوجوان نے خودکشی سے قبل ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے ہی خاندان کو ہراساں کیے جانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اس نے بندی سنجے کے قریبی ساتھی اور کارپوریٹر سومیدی وینو کو اپنے خاندان کی پریشانیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ جب ایک ہندو خاندان مبینہ طور پر ہراسانی کا شکار تھا، جب ایک معذور نوجوان اپنے خاندان کی مشکلات بیان کررہا تھا، تب اس کی مدد کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ کیا کسی مظلوم کی مدد کے لیے اس کا کسی مخصوص مذہب یا سیاسی نظریے سے تعلق رکھنا ضروری ہے؟ اگر کسی شخص کی حمایت صرف اس وقت کی جائے جب وہ دوسرے مذہب کے خلاف نفرت پھیلائے تو یہ طرزِ عمل کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

بندی سنجے کو چاہیے کہ وہ ان الزامات کا جواب دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔ مظلوم چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہی ایک ذمہ دار عوامی نمائندے کا فرض ہے۔