تلنگانہ

ایک ہزار روپے کا تحفہ، لیکن ایک کلک پڑ سکتا ہے بھاری!

واٹس ایپ پر پے ٹی ایم کی جانب سے ہر شخص کو ایک ہزار روپے دینے کے جعلی پیغامات وائرل۔ پولیس کمشنر وی سی سجنار کی عوام کو مشتبہ لنکس سے دور رہنے کی ہدایت، او ٹی پی، اے ٹی ایم پن اور بینک تفصیلات شیئر نہ کرنے کا مشورہ۔

دیپاولی کے موقع پر سائبر دھوکہ باز سوشل میڈیا، خاص طور پر واٹس ایپ پر جعلی پیغامات پھیلا رہے ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پے ٹی ایم ہر شخص کو دیوالی کے تحفے کے طور پر 1,000 روپے دے رہا ہے۔ پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے پیغامات کے جھانسے میں نہ آئیں۔

ان جعلی پیغامات میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ دیے گئے لنک پر کلک کرکے فوری طور پر 1,000 روپے کا انعام حاصل کریں۔ لوگوں کا اعتماد جیتنے کے لیے دھوکہ باز ایسے پیغامات بھی پھیلا رہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ’’مجھے بھی پہلے یہ پیشکش جعلی لگی تھی، لیکن حقیقت میں مجھے 1,000 روپے مل گئے، آپ بھی کوشش کرکے دیکھیں۔‘‘ اس طرح کے پیغامات کا مقصد لوگوں کو یقین دلانا اور انہیں مشتبہ لنک پر کلک کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے عوام کو ایسی دھوکہ دہی سے ہوشیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر مجرم تہواروں کے موقع پر لوگوں کے جوش و خروش اور خصوصی پیشکشوں کا فائدہ اٹھا کر انہیں مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔

پولیس کمشنر نے عوام کو مشورہ دیا کہ کسی بھی مشتبہ لنک پر کلک نہ کریں اور غیر مصدقہ ویب سائٹس پر اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، اے ٹی ایم پن، او ٹی پی، پاس ورڈ یا دیگر ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔ اسی طرح کسی بھی پیغام کی حقیقت کی تصدیق کیے بغیر اسے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو آگے بھیجنے سے بھی گریز کریں۔

پولیس نے واضح کیا کہ پے ٹی ایم کی کسی بھی تشہیری پیشکش کی تصدیق صرف اس کی سرکاری ویب سائٹ یا مجاز ذرائع سے کی جائے۔ اگر کسی کو مشتبہ پیغام موصول ہو یا سائبر دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑے تو فوری طور پر قومی سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں یا www.cybercrime.gov.in پر شکایت درج کروائیں۔

پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ واٹس ایپ پر گردش کرنے والی ہر پُرکشش تہواری پیشکش حقیقی نہیں ہوتی اور معمولی سی لاپرواہی بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔