یہ غازی..، یہ …پر اسرار”ماضی، مقابلہ و معاونت کا حیرت انگیز فکری امتزاج
فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میں اسپین کی تاریخی فتح اور ارجنٹینا کو شکست فاش
فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میں اسپین کی تاریخی فتح اور ارجنٹینا کو شکست فاش
(مورخہ 20 جولائی) ہسپانیہ/ اسپین جو کبھی اندلس(موجودہ اسپین اور پرتگال و دیگر خطوں پر مشتمل تھا) اموی سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا اس نے ارجنٹینا کو فٹبال فائنل میچ میں شکست دی۔
سابقہ اموی سلطنت (711ء تا 1492ء) اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا اور شاندار باب ہے۔ 800 سالہ اس دورِ حکومت میں مسلمانوں نے یہاں دنیا کا بہترین علمی، ثقافتی اور تعمیراتی ورثہ چھوڑا، جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔
اندلس اور مسجدِ قرطبہ پر علامہ اقبال کا مشہور ترین شعر :
"کعبۂ اربابِ فن! سطوتِ دینِ مبین
تجھ سے حرم مرتبت، اندلسیوں کی زمیں”
(اے مسجدِ قرطبہ! تو فن کاروں کا کعبہ اور دینِ اسلام کی شوکت کی نشانی ہے۔ تیری وجہ سے اندلس کی زمین کی عزت مکہ مکرمہ کے حرم کی طرح بڑھ گئی ہے)
مسلم اندلس کی عظمت، علم دوستی اور مذہبی رواداری کا اعتراف جہاں مسلم مورخین نے کیا، وہاں انصاف پسند مغربی مستشرقین (Fair-minded Orientalists) اور مورخین نے بھی اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کیا ہے ان کے نزدیک جب پورا یورپ تاریکی اور جہالت کے دور(Dark Age ) سے گزر رہا تھا، تب اندلس علم و روشنی کا گہوارہ تھا۔
1۔گستاو لی بان (Gustave Le Bon) — فرانسیسی مورخ مشہور فرانسیسی مستشرق اور فلسفی گستاو لی بان اپنی معرکہ آرا کتاب "تہذیبِ عرب” (The Civilization of Arabs) میں لکھتے ہیں:”اگر مسلمان اندلس کو فتح نہ کرتے تو یورپ صدیوں تک جہالت کے اندھیروں میں پڑا رہتا۔ مسلمانوں نے ہی وحشی یورپ کو تہذیب سکھائی، ان کے اخلاق کو سنوارا اور انہیں علمی و فکری آزادی دی یورپ کے عیسائیوں نے قرطبہ اور غرناطہ کی یونیورسٹیوں سے علم حاصل کر کے ہی اپنے ہاں نشاة الثانیہ (Renaissance) کی بنیاد رکھی۔”
2۔جان ولیم ڈریپر (John William Draper) — امریکی سائنسدان و مورخ اپنی مشہور کتاب "یورپ کی فکری ترقی کی تاریخ” میں وہ لکھتے ہیں:
"جب یورپ کے بادشاہ اور پادری غسل کرنا بھی نہیں جانتے تھے اور گندگی میں رہتے تھے، اس وقت قرطبہ کے گلی کوچے رات کو روشنیوں سے جگمگاتے تھے، وہاں پکے فرش تھے اور شہر میں سینکڑوں حمام موجود تھے۔ مسلمانوں نے یورپ کو نہ صرف سائنس اور فلسفہ سکھایا بلکہ جینے کا سلیقہ اور صفائی ستھرائی بھی سکھائی۔”
اسکے علاوہ بھی بہت سے انصاف پسند اور غیر جانبدار مورخین و مبصرین نے بہت کچھ لکھا ہے جو پڑھنے،سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ سامان عبرت بھی ہے۔
جس کے فاتحین و انکے جذبے ایمانی و جاں فشانی کو اقبال نے اندلس کے فاتح طارق بن زیاد کی زبان سے مجاہدینِ اسلام کے جذبے کو یوں بیان کیا:
طارق بن زیاد کی دعا (اندلس کے میدان میں)
"یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی! "
راقم کی کھیل میں کم دلچسپی اور کھلاڑی کی مختصر معلومات کے باوجود اس میچ میں خاصی دلچسپی پیدا ہونے کی ایک اہم وجہ اسپین حکومت’عوام اور بالخصوص کھلاڑیوں کا ملک و اہل فلس -طین کے تحہ اظہار ایک جہتی ،یگانگت و ہمدردی ہھی ہے جو جرات سے کم نہیں۔
فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کے دوران کھیل کے میدانوں اور سوشل میڈیا پر فلسطین کی حمایت اور یکجہتی کے حوالے سے انتہائی دلچسپ، جذباتی اور یادگار تبصرے سامنے آئے ہیں۔ چونکہ یہ ٹورنامنٹ غزہ اور فلسطین کی موجودہ صورتحال کے سائے میں کھیلا گیا، اس لیے شائقین اور تبصرہ نگاروں نے اسے محض ایک کھیل نہیں بلکہ مظلوموں کی آواز بننے کا ذریعہ قرار دیا۔
"انٹرنیٹ پر شائقین نے اس فائنل کو ایک پراکسی مقابلے کی طرح بنا دیا ہے۔ ایک طرف اسپین ہے جس نے حال ہی میں فلسطین کو باقاعدہ ریاست تسلیم کر کے اسرائیل کی شدید مخالفت کی، اور دوسری طرف ارجنٹینا ہے جس کے کچھ حامیوں کے سیاسی رجحانات مختلف رہے ہیں۔ یہ فٹبال کی تاریخ کا سب سے زیادہ سیاسی طور پر چارجڈ فائنل بن چکا ہے۔”
غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر عارضی اسکرینیں لگا کر میچ دیکھنے والے فلسطینیوں کے تبصروں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ غزہ کے ایک رہائشی احمد البزم نے یاہو اسپورٹس سے بات کرتے ہوئے کہا:
"ہم دل و جان سے اسپین کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے فلسطین کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہسپانوی ٹیم ٹرافی اٹھائے اور اس کے ساتھ فلسطین کا پرچم بھی بلند ہو۔”جبکہ معذور فلسطینی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حاتم المغربی نے کہا کہ ہم ان تمام ٹیموں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے دکھ کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
"اس ورلڈ کپ میں کوئی اسرائیلی پرچم نظر نہیں آیا، لیکن اسٹیڈیم کے ہر کونے میں فلسطینی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس سے واضح پیغام ملتا ہے کہ دنیا کس کے ساتھ کھڑی ہے۔ سچ یہ ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ کوئی بھی جیتے، لیکن اخلاقی طور پر فلسطین یہ ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔
مختصر یہ کہ اس ورلڈ کپ نے ثابت کیا کہ فٹبال صرف ایک کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے مظلوم ترین لوگوں کو امید دینے اور ان کی آواز کو اربوں انسانوں تک پہنچانے کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے۔
موجودہ ہسپانیہ (اسپین) کا ارضِ فلسطین کی کھل کر حمایت کرنا اور ماضی کے مسلم اندلس کا فکری و ثقافتی پس منظر سچ مچ ایک سحر انگیز فکری امتزاج پیش کرتا ہے۔ تاریخ کے پہیے نے ایک حیرت انگیز موڑ لیا ہے؛ جس زمین پر 1492ء میں مسلم اقتدار کا سورج غروب ہوا تھا، آج اسی مٹی سے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کے لیے یورپ کی سب سے طاقتور آواز بلند ہو رہی ہے
حاصلِ کلام:اندلس کی مٹی سے اٹھنے والی یہ حمایت ثابت کرتی ہے کہ "حق اور انسانیت” کبھی نہیں مرتے۔ 500 سال پہلے جس سرزمیں سے مسلمانوں کو بے دخل کیا گیا تھا، آج اسی سرزمیں کے وارث فلسطینی مسلمانوں کے جینے کے حق کی سب سے بڑی ڈھال بن کر ابھرے ہیں。 یہ تاریخ کا وہ حسین انصاف ہے جو مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک پرامن اور آزاد فلسطین کی نوید دیتا ہے
از قلم :ادیب اللہ ادؔیب