تین عرب ممالک کا پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا فیصلہ
پاکستان ساورن فنڈ‘ بنایا جائے گا، جو بیوروکریٹک، ریگولیٹری کی دقتوں اور رکاوٹوں سے پاک ہوگا، 7ریاستوں کے 8 ارب ڈالر کے اثاثے اس فنڈ میں منتقل کئے جارہے ہیں۔

ریاض: سعودی عرب کے سابق سفیر ڈاکٹر علی عواد العسیری نے دعویٰ کیا ہے کہ تین عرب ممالک سعودی عرب، یو اے ای اور قطر پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرینگے۔
اس بات کا انکشاف انہوں نے عرب نیوز میں شائع اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا، انہوں نے لکھا کہ ’پاکستان ساورن فنڈ‘ بنایا جائے گا، جو بیوروکریٹک، ریگولیٹری کی دقتوں اور رکاوٹوں سے پاک ہوگا، 7ریاستوں کے 8 ارب ڈالر کے اثاثے اس فنڈ میں منتقل کئے جارہے ہیں۔
سابق سعودی سفیر کے مطابق حصص اور فروخت کے ذریعے اس میں مزید اضافہ ہوگا، فنڈ کی آمدنی بڑی سرمایہ کاری کے لئے استعمال ہوگی، حکومت خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر خسارہ کرنے والے اداروں کی نجکاری، لیزنگ پرکام کرے گی۔
ڈاکٹر علی عواد العسیری کا کہنا ہے کہ سال 2035تک پاکستان کی معیشت ایک ٹریلین ڈالر ہوجائے گی، اتحادیوں، سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور فارن پارٹنرز کے ساتھ مل کر حالات کو مستحکم کیا، پاکستان اب مستحکم ملک ہے اور نگران دور کی طرف جارہا ہے۔
اپنے مضمون میں انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انوسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل ون ونڈو سہولت کے لئے بنائی گئی ہے یہ کونسل خلیجی ممالک سے زراعت، معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار میں سرمایہ کاری لاسکتی ہے۔
سابق سعودی سفیر کے مطابق سعودی وژن2030 سے پاکستان کو معاشی ترقی کے بے پناہ مواقع مل سکتے ہیں، ہنرمند پاکستانیوں کو خلیجی ممالک میں روزگار ملے گا، غیرضروری بیورو کریٹک رکاوٹیں ہیں، جس سے سرمایہ کار کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بیورو کریٹک قدغنوں کے باعث منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر علی عواد العسیری پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں جنہوں نے پاکستان (2001-09) اور لبنان (2009-16)میں مملکت سعودی عرب کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور ریاض میں بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ایرانی اسٹڈیز اور رسانہ میں بورڈ کے رکن ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا کردار کے عنوان سے ایک کتاب بھی تصنیف کی ہے۔