حیدرآباد

مادھاپور خوفناک سڑک حادثہ کیس، جنا سینا رکن پارلیمنٹ لنگام نینی رمیش کے بیٹے پر سنگین سوالات

مادھاپور میں پیش آئے ایک مہلک سڑک حادثے کے معاملے میں پولیس کی کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ جن سینا کے رکن پارلیمنٹ لنگام نینی رمیش کے بیٹے سنجوش سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جس پر مبینہ طور پر تیز رفتار کار سے ایک 26 سالہ خاتون کو ٹکر مارنے کا الزام ہے۔

حیدرآباد: مادھاپور میں پیش آئے ایک مہلک سڑک حادثے کے معاملے میں پولیس کی کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ معاملہ جن سینا کے رکن پارلیمنٹ لنگام نینی رمیش کے بیٹے سنجوش سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جس پر مبینہ طور پر تیز رفتار کار سے ایک 26 سالہ خاتون کو ٹکر مارنے کا الزام ہے۔

متوفیہ کی شناخت بھارتی موکھی کے طور پر ہوئی ہے، جو لائف اسٹائل اسٹور میں ملازمت کرتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق 16 اگست کو وہ ان آربٹ مال کے سامنے سڑک عبور کر رہی تھی کہ ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔

الزامات کے مطابق مادھاپور پولیس نے ابتدائی طور پر مقدمہ بی این ایس کی دفعہ 106(1) کے تحت درج کیا، جس کے تحت ملزم کو تھانے سے ضمانت ملنے کا امکان تھا۔ پولیس نے نوٹس جاری کرنے کے بعد ملزم کو جانے کی اجازت دی، جس پر مقدمے میں شامل کی گئی دفعات اور پولیس کارروائی پر سوالات اٹھائے گئے۔

کئی قانونی ماہرین نے اس معاملے میں پولیس کی جانب سے عائد کی گئی دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بی این ایس کی دفعہ 105 اور موٹر وہیکلز ایکٹ کی دفعہ 184 سمیت دیگر سخت دفعات کے اطلاق کا بھی جائزہ لیا جا سکتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ اور خون کے نمونے کی جانچ کے بعد مزید دفعات شامل کرنے کے معاملے پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اس کیس میں مبینہ طور پر ملزم کو بچانے اور تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے بھی الزامات سامنے آئے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق حادثے کے فوری بعد ملزم کے اہل خانہ اور پولیس کے بعض اہلکاروں کے درمیان مبینہ طور پر بات چیت ہوئی۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ حادثے کی تفصیلات کئی دن تک منظر عام پر نہیں آنے دی گئیں اور کسی دوسرے شخص، مبینہ طور پر ایک نجی ڈرائیور، کو گاڑی چلانے والا ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعد میں ایک عینی شاہد کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد معاملہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا۔

رپورٹس کے مطابق ٹرانسپورٹ محکمہ کے حکام نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور اندازہ لگایا کہ کار تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ تاہم، حکام نے یہ بھی کہا کہ جائے وقوعہ پر سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی کے باعث حادثے کی مکمل تفصیلات کا تعین کرنا مشکل ہے۔

ایک مصروف علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی پر بھی عوام کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور تمام دستیاب شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے کے اندراج، شواہد کی جانچ اور مبینہ طور پر ملزم کو بچانے کی کوششوں سے متعلق الزامات مزید تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے۔