امریکہ و کینیڈا

ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا

جنوبی کیرولائنا میں سینیٹ کی امیدوار ڈارلین گراہم کی حمایت میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں۔‘‘ ڈارلین گراہم آنجہانی ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی ضرورت بھی یقینی طور پر محسوس نہیں ہوتی۔


جنوبی کیرولائنا میں سینیٹ کی امیدوار ڈارلین گراہم کی حمایت میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میں اس وقت آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ سمجھتا ہوں۔‘‘ ڈارلین گراہم آنجہانی ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں۔


اس سے قبل بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیں گے۔ انہوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر خطے کا نقشہ متعدد بار شیئر کرتے ہوئے اس آبی راستے کو امریکی قرار دیا تھا۔


ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً منجمد ہونے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہنے کے درمیان ٹرمپ نے معاہدے کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے جنوبی کیرولائنا میں حامیوں سے کہا، ’’ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘‘


ٹرمپ نے اگست کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کررہا اور نہ ہی اس کا کوئی منصوبہ ہے۔ تاہم اگلے ہی روز انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکان کا اعتراف کیا تھا۔


دوسری جانب ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ اپنی فوجی تیاری کو اعلیٰ ترین سطح پر برقرار رکھتے ہوئے بدترین صورتحال کے امکانات کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے۔