میر عالم تالاب میں زیرِ آب مسجد کی تاریخی ورثے کی انوکھی داستان
اس کی بنیاد 20 جولائی 1804 کو میر عالم بہادر نے رکھی اور 8 جون 1806 کو اس کی تعمیر مکمل ہوئی، جبکہ اس کے 21 نیم دائرہ نما محرابی بند آج بھی اس کے منفرد تعمیراتی ورثے کی یاد دلاتے ہیں
حیدرآباد :شہر حیدرآباد کا نام آتے ہی تاریخی مکہ مسجد کا منظر سامنے آجاتا ہے اس کے علاوہ اس فرخندہ بنیاد شہر میں کیی تاریخی مساجد ہیں جن میں چارمینار کی مینار میں واقعہ مسجد ، باغ عام میں واقعہ شاہی مسجد بیشمار قطب شاہی مساجد جن میں چند آباد ہیں اور آج بھی کیی غیر آباد ہیں اس کے علاوہ حیدرآباد کے تاریخی میر عالم ٹینک میں پانی کے اندر واقع قدیم مسجد ایک ایسا مذہبی اور تاریخی ورثہ ہے جو طویل عرصے سے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے، لیکن حالیہ دنوں میں میر عالم ٹینک کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی حکومتی کوششوں، خصوصاً کیبل برج کی تعمیر کے بعد، اس پوشیدہ تاریخی مسجد کی جانب بھی عوام اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول ہوئی ہے۔ مقامی طور پر اس مسجد کو تین کمان مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور جھیل کے پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سال کے بیشتر عرصے میں اس تک رسائی ممکن نہیں رہتی، جس کی وجہ سے اس کی تاریخی اور مذہبی اہمیت بھی عام لوگوں تک پوری طرح نہیں پہنچ سکی۔ میر عالم ٹینک خود حیدرآباد کی دو صدیوں سے زائد قدیم تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے
اس کی بنیاد 20 جولائی 1804 کو میر عالم بہادر نے رکھی اور 8 جون 1806 کو اس کی تعمیر مکمل ہوئی، جبکہ اس کے 21 نیم دائرہ نما محرابی بند آج بھی اس کے منفرد تعمیراتی ورثے کی یاد دلاتے ہیں۔ ایک زمانے میں یہی ٹینک حیدرآباد کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ جھیل آلودگی، تجاوزات اور رقبے میں کمی جیسے مسائل سے دوچار ہوگئی، یہاں تک کہ 1967 میں تقریباً 460 ایکڑ پر محیط جھیل کا رقبہ 2021 تک گھٹ کر تقریباً 260 ایکڑ رہ گیا۔
ایسے میں جھیل کے اندر موجود تاریخی مسجد کا تحفظ محض ایک مذہبی معاملہ نہیں بلکہ حیدرآباد کے تاریخی، معماری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا بھی اہم سوال ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تلنگانہ حکومت، تلنگانہ وقف بورڈ، محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ کے ماہرین اور متعلقہ شہری ادارے مشترکہ طور پر اس مسجد کی تاریخی حیثیت، وقف ملکیت اور موجودہ ساختی حالت کا باقاعدہ سروے کرائیں اور اس کے بعد ایک جامع تحفظ و بحالی منصوبہ تیار کیا جائے۔ اگر ماہرین اس بات کی تصدیق کریں کہ مسجد کی عمارت محفوظ ہے اور پانی کی سطح کم ہونے کے مخصوص موسم میں وہاں پہنچنا ممکن ہے تو مناسب حفاظتی انتظامات کے ساتھ اسے عام مسلمانوں کے لیے دوبارہ نماز کی ادائیگی کے لیے کھولنے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
خاص طور پر ان دنوں میں جب جھیل کا پانی کم ہو اور مسجد تک محفوظ رسائی ممکن ہو، پانچوں نمازوں کے لیے محدود اور منظم اوقات میں مسجد کو کھولنے کا انتظام کیا جاسکتا ہے، جبکہ مانسون اور ان اوقات میں جب پانی کی سطح یا راستہ خطرناک ہو، عوامی رسائی عارضی طور پر بند رکھی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے محفوظ پیدل راستہ، حفاظتی ریلنگ، مناسب روشنی، صفائی، نگرانی اور ہنگامی امداد کا انتظام ضروری ہوگا تاکہ مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ نمازیوں اور سیاحوں کی سلامتی بھی یقینی بنائی جاسکے۔
تلنگانہ وقف بورڈ اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے؛ اگر مسجد کی وقف حیثیت سرکاری ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہے تو بورڈ کو اس کے تحفظ، تزئین و بحالی، تقدس کی حفاظت اور مستقل مذہبی انتظامات کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، جن میں مناسب امام اور مؤذن کی تقرری بھی شامل ہوسکتی ہے۔ مسجد کی تزئین و آرائش ایسی ہونی چاہیے جس میں اس کی اصل تاریخی و معماری شناخت متاثر نہ ہو، کیونکہ تاریخی عمارت کو جدید تعمیر میں تبدیل کرنے کے بجائے اس کی اصل شکل اور کردار کو محفوظ رکھنا ہی حقیقی ورثے کا تحفظ ہوگا۔
دوسری جانب میر عالم ٹینک کو سیاحتی مقام بنانے کی حکومتی کوششیں اس تاریخی مسجد کے لیے ایک نیا موقع فراہم کرتی ہیں اگر مسجد کو محفوظ انداز میں بحال کیا جائے اور اس کی تاریخ سے متعلق معلوماتی تختیاں نصب کی جائیں تو یہ مقام مذہبی سیاحت، تاریخ اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک منفرد کشش بن سکتا ہے۔ ممبئی کی سمندری حدود میں واقع حاجی علی درگاہ کی طرح میر عالم ٹینک کی یہ تاریخی مسجد بھی مذہبی ورثے اور سیاحت کے امتزاج کی ایک منفرد مثال بن سکتی ہے، اگرچہ دونوں مقامات کی جغرافیائی اور تاریخی صورتحال مختلف ہے۔ اس لیے مقصد مسجد کو محض سیاحتی مقام بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک زندہ مذہبی ورثے کے طور پر محفوظ کرنا چاہیے، جہاں عبادت کا حق، تاریخی شناخت اور عوامی سلامتی ایک ساتھ برقرار رہیں۔
حکومت اگر میر عالم ٹینک کو واقعی ایک بڑے سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینا چاہتی ہے تو اسے جھیل، تاریخی مسجد، کیبل برج اور آس پاس کے دیگر مقامات کو ایک مربوط تاریخی، مذہبی اور ماحولیاتی منصوبے کے تحت ترقی دینے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ جھیل کی صفائی، آلودگی پر قابو، غیر قانونی تجاوزات کی روک تھام اور پانی کی سطح کے سائنسی انتظام کو بھی منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ آلودہ پانی نہ صرف جھیل کے ماحول بلکہ قریبی نہرو زولوجیکل پارک کے حیوانات اور مسجد کے تاریخی ڈھانچے کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
میر عالم ٹینک کی زیرِ آب یا پانی سے گھری ہوئی تاریخی مسجد آج ایک خاموش ورثہ ہے، مگر مناسب حکومتی توجہ، وقف بورڈ کی ذمہ داری، ماہرین کی نگرانی اور محفوظ بحالی کے ذریعے اسے دوبارہ عبادت، تاریخ اور ثقافتی شناخت کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس تاریخی مسجد کو نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی مکمل دستاویز بندی، قانونی حیثیت کی وضاحت، تعمیراتی حفاظت اور مناسب بحالی کا عمل شروع کیا جائے اور جب موسمی حالات اور ماہرین کی رائے اجازت دیں تو اسے دوبارہ عام مسلمانوں کے لیے نماز کی ادائیگی کے لیے کھولنے کا راستہ نکالا جائے۔ یہ قدم نہ صرف مقامی مسلم آبادی کے مذہبی جذبات کا احترام ہوگا بلکہ حیدرآباد کے صدیوں پرانے مشترکہ تاریخی ورثے کے تحفظ اور میر عالم ٹینک کو ایک باوقار مذہبی و ثقافتی سیاحتی مقام بنانے کی جانب بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔