ٹرمپ کا اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ویٹو اور انتظامی اختیارات استعمال کرنے کا عزم
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کانگریس پر ڈیموکریٹک پارٹی کا قبضہ ہونے کے باوجود وہ اپنے منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ویٹو کے اختیار اور وسیع انتظامی اختیارات استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کانگریس پر ڈیموکریٹک پارٹی کا قبضہ ہونے کے باوجود وہ اپنے منصوبوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ویٹو کے اختیار اور وسیع انتظامی اختیارات استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
منگل کو وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ ختم ہونے سے پہلے سی بی ایس نیوز کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، ”میرے پاس سب سے بڑا اختیار ہے، اسے ویٹو کہتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں ”مسٹر ویٹو” کہے جانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بار بار ویٹو کرنے سے آخرکار ڈیموکریٹس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا، ”ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ آپ چند ماہ تک ویٹو کرتے رہتے ہیں اور پھر وہ آکر کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی سمجھوتہ کرنا ہوگا۔”
انٹرویو کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق، امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں جارجیا، نیو ہیمپشائر اور شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس کو ابتدائی طور پر 3 اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ شمالی کیرولائنا میں ریپبلکن پارٹی کی نشست ڈیموکریٹس نے حاصل کرلی۔ سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو مجموعی طور پر 4 نشستیں مزید جیتنا ہوں گی۔
ریپبلکن صدر ٹرمپ نے کہا کہ بار بار ویٹو کرنے سے آخرکار ڈیموکریٹس مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا، ”ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ آپ چند ماہ تک ویٹو کرتے رہتے ہیں اور پھر وہ آکر کہتے ہیں کہ ہمیں کوئی سمجھوتہ کرنا ہوگا۔”
ٹرمپ نے کہا کہ اس فیصلے سے انہیں وفاقی اداروں، بورڈوں اور کمیشنوں پر وسیع اختیارات حاصل ہوگئے ہیں، خواہ کانگریس پر کسی بھی سیاسی جماعت کا کنٹرول ہو۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ایک نئے بڑے استقبالیہ ہال کی تعمیر 2027 میں مکمل ہوجائے گی اور واشنگٹن میں 250 فٹ بلند مجوزہ محراب کی تعمیر کا کام بھی شروع کردیا جائے گا۔ اس منصوبے کو قانونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس محراب کو ”کامیابی کا جشن” قرار دیا۔