حیدرآباد

اب انسانیت ختم ہوگئی؟ حافظ بابا نگر میں نوجوان کا بہیمانہ قتل، دوست شدید زخمی

مقتول کے بھائی سید رشید نے الزام عائد کیا کہ عمر کو رات دیر گئے منصوبہ بند طریقے سے مقامِ واقعہ پر بلایا گیا اور اس کا قتل کردیا گیا۔ انہوں نے اس واقعہ کو بے رحمانہ اور ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف دلایا جائے۔

حیدرآباد: پرانے شہر کے علاقے حافظ بابا نگر میں منگل کی علی الصبح چاقوؤں سے کیے گئے حملے میں 35 سالہ نوجوان ہلاک جبکہ اس کا دوست شدید زخمی ہوگیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ بابا نگر کے ایچ بلاک میں پیش آئے اس واقعہ میں مقتول کی شناخت ماشااللہ عمر کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ اس کے دوست سعید بن محفوظ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں نوجوانوں کو مکان سے متعلق ایک تنازعہ پر بات چیت کے بہانے مقامِ واقعہ پر بلایا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ان پر چاقوؤں سے حملہ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ منگل کی علی الصبح تقریباً 3 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا۔ حملے میں عمر شدید زخمی ہوگیا اور اس کی موت واقع ہوگئی، جبکہ اس کا دوست سعید بن محفوظ زخمی ہوگیا۔ اس معاملے میں امان قریشی نامی شخص پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم واقعہ کی مکمل تفصیلات اور حملے کے پس پردہ اصل وجہ پولیس تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔ مقتول کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے عثمانیہ جنرل اسپتال کے مردہ خانے منتقل کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس چندرائن گٹہ اے سدھاکر نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے ابتدائی تحقیقات کا جائزہ لیا۔ کنچن باغ پولیس کی جانب سے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103(1) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس نے ملزمین کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

مقتول کے بھائی سید رشید نے الزام عائد کیا کہ عمر کو رات دیر گئے منصوبہ بند طریقے سے مقامِ واقعہ پر بلایا گیا اور اس کا قتل کردیا گیا۔ انہوں نے اس واقعہ کو بے رحمانہ اور ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو فوری گرفتار کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف دلایا جائے۔ انہوں نے مجلس اتحاد المسلمین کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی اور چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔

افراد خاندان کے مطابق مقتول عمر کو تین کم عمر لڑکیاں ہیں۔ایک نوجوان کی موت نے اس خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے، جبکہ تین معصوم بچیوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔

حیدرآباد میں معمولی تنازعات اور ذاتی اختلافات کے دوران تشدد کے واقعات ایک بار پھر سماج کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کرنا نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ہے بلکہ پورے خاندانوں کو عمر بھر کے لیے غم اور مشکلات میں مبتلا کردیتا ہے۔ حافظ بابا نگر کا یہ واقعہ بھ