مشرق وسطیٰ

غزہ جنگ میں حاملہ خواتین کی ناقابل یقین کہانیاں

ترجمان یونیسیف نے ویبڈا نامی ایک نرس کی کہانی بھی سنائی، جس نے بتایا کہ اس نے گزشتہ 8 ہفتوں میں 6 مردہ خواتین کے ہنگامی سیزرین کیے تھے۔ یعنی خواتین کو ایسی حالت میں لایا گیا تھا کہ وہ خود تو مر گئی تھیں لیکن ان کے پیٹ میں بچہ زندہ تھا۔

غزہ: اقوام متحد کے ادارے یونیسیف نے اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ میں حاملہ خواتین کو درپیش ناقابل یقین تکلیف دہ صورت حال کی کہانیاں دنیا کے سامنے پیش کر دیں۔ یونیسیف کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ترجمان ٹیس انگرم نے کہا ہے کہ ہولناک جارحیت میں ہر 10 منٹ میں ایک بچہ دنیا میں آ رہا ہے، نوزائیدہ بچے تکلیف میں ہیں، مائیں خون بہنے سے موت کے منہ میں جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ نے فرانس کا بڑا انعام ’فریڈم پرائز‘ جیت لیا
اسرائیلی حملوں سے تباہ غزہ کی بحالی کیلئے 40 ارب ڈالر درکار ہوں گے: اقوام متحدہ
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

یونیسف نے اس صورت حال میں اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے بعد سے 20 ہزار بچے پیدا ہوئے ہیں، اور غزہ میں ایسے حالات میں بچے پیدا ہوئے ہیں جو ناقابل یقین ہیں، ترجمان نے کہا اس صورت حال میں تو ہم سب کو رات کو نیند نہیں آنی چاہیے۔

انھوں نے کہا انسانیت ان حالات کو مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو انسانی بنیادوں پر فائر بندی کی ضرورت ہے، حاملہ خواتین کو ناقابل تصور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ترجمان ٹیس انگرم نے فلسطینی حاملہ خواتین کی دل دہلا دینے والی کہانیاں بھی سنائیں، انھوں نے بتایا کہ مشاعل نامی ایک خاتون کے گھر پر بم گرایا گیا جب وہ حاملہ تھی، اس کا شوہر کئی دنوں تک ملبے کے نیچے دبا رہا، اور اس دوران اس کا بچہ پیٹ میں مر گیا۔

 اس واقعے کو ایک ماہ ہو چکا ہے لیکن مشاعل کو تاحال طبی امداد نہیں مل سکی ہے۔ مشاعل نے بڑے دکھ سے کہا ’’یہی بہتر ہے کہ بچہ اس ڈراؤنے خواب جیسی دنیا میں پیدا نہیں ہوا۔‘‘

انھوں‌ نے امل نامی فلسطینی خاتون کا قصہ سنایا، ان کا حمل 6 ماہ کا تھا جب بمباری میں وہ گھر کے ملبے کے نیچے دب گئیں، انھیں نکالا گیا لیکن بچے نے ایک ہفتے تک کوئی حرکت نہیں کی، لیکن پھر سما صحت مند طور پر پیدا ہوا، تاہم امل تاحال زخمی اور بیمار ہے۔

 ترجمان یونیسیف نے ویبڈا نامی ایک نرس کی کہانی بھی سنائی، جس نے بتایا کہ اس نے گزشتہ 8 ہفتوں میں 6 مردہ خواتین کے ہنگامی سیزرین کیے تھے۔ یعنی خواتین کو ایسی حالت میں لایا گیا تھا کہ وہ خود تو مر گئی تھیں لیکن ان کے پیٹ میں بچہ زندہ تھا۔

انگرم نے کہا ’’ماؤں کو دوران حمل، دوران پیدائش اور بعد از پیدائش جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ناقابل تصور ہیں، انھیں طبی امداد، خوراک اور محفوظ مقام میسر نہیں ہے۔

‘‘ انھوں نے بتایا کہ اب رفح میں اماراتی اسپتال ہی غزہ میں حاملہ خواتین کی اکثریت کی دیکھ بھال کر رہا ہے، لیکن محدود وسائل کے ساتھ اسپتال پر اتنا رش ہوتا ہے کہ طبی عملہ جب کسی حاملہ خاتون کا آپریشن کرتا ہے تو محض 3 گھنٹے بعد انھیں ماں کو ڈسچارج کرنا پڑ جاتا ہے۔

یونیسیف ترجمان نے کہا غزہ میں جو ہولناک صورت حال ہے اس نے ماؤں کو اسقاط حمل، مردہ پیدائش، قبل از وقت پیدائش، زچگی کے دوران موت اور جذباتی صدمے کے خطرات میں مبتلا کر رکھا ہے، بہت سی حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور شیرخوار ’غیر انسانی‘ حالات میں رہ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا غزہ میں یہ حالات اب ’معمول‘ ہے جس کو انسانیت مزید برقرار رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی، اس لیے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

a3w
a3w