امریکہ و کینیڈا

امریکہ گولہ بارود کی کمی کے باعث بعض ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام: رپورٹس

امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو اعلیٰ امریکی حکام کے مطابق فوجی کمانڈروں نے میزائل شکن ہتھیاروں کے محدود ہوتے ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے بعض ایرانی میزائلوں اور حملہ آور ڈرون طیاروں کو فضائی دفاعی نظام سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔

واشنگٹن: امریکی فوج نے اپنے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کے باعث بعض ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کو روکنے کے بجائے انہیں اپنے راستے پر جانے دینے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔ یہ بات ایک ذرائع ابلاغ کی رپورٹ سے معلوم ہوئی ہے۔


امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو اعلیٰ امریکی حکام کے مطابق فوجی کمانڈروں نے میزائل شکن ہتھیاروں کے محدود ہوتے ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے بعض ایرانی میزائلوں اور حملہ آور ڈرون طیاروں کو فضائی دفاعی نظام سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام اہداف جو امریکی فوجی اہلکاروں کے لیے براہِ راست خطرہ بن سکتے ہیں، انہیں بدستور نشانہ بنا کر تباہ کیا جاتا ہے۔


بعض صورتوں میں ایسے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کو، جو اُن علاقوں کی طرف جا رہے ہوں جہاں کوئی فوجی اہلکار موجود نہ ہو، گزرنے دیا جاتا ہے، اگرچہ وہ فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔


دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کے روز ایک نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی اسلحہ کے ذخائر ختم ہونے سے متعلق خبروں کی تردید کی۔ انہوں نے ان اطلاعات کو افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی معلومات پھیلانے والوں پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے بقول ایسی خبریں لیک کرنے والوں کو جیل میں ہونا چاہیے۔


ایک اور امریکی نشریاتی ادارے نے جمعہ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکہ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات پر تشویش میں مبتلا ہے۔


اسی روز صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو نمایاں طور پر وسعت دینے کا منصوبہ مؤخر کر دیا، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں اور فضائی دفاع کے دیگر ہتھیاروں کے پہلے ہی محدود ہوتے ذخائر مزید خطرناک حد تک کم ہو جائیں گے۔