امریکہ نے اسکول پر حملہ کرکے عالمی قانون کی خلاف ورزی کی ایمنسٹی انٹرنیشنل
تنظیم نے مزید کہا کہ اگر حملہ کرنے والوں کو اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے، تو یہ ایک سنگین انٹیلیجنس ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر جان بوجھ کر حملہ کیا گیا ہے تو یہ ایک کھلا جنگی جرم ہے
لندن: ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے ایران میں ایک اسکول پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق حملے کے وقت اسکول میں زیرِ تعلیم معصوم بچے موجود تھے، اور کلاس رومز جو تعلیم و تربیت کے مراکز ہوتے ہیں، اچانک خونریز مناظر میں تبدیل ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ بچوں سے بھرے اسکول کو نشانہ بنانا نہ صرف عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنگی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ اگر حملہ کرنے والوں کو اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے، تو یہ ایک سنگین انٹیلیجنس ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر جان بوجھ کر حملہ کیا گیا ہے تو یہ ایک کھلا جنگی جرم ہے، جس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران کے “شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول” پر مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے ٹوماہاک میزائل سے حملہ کیا گیا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 175 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 150 سے زائد بچے اور بچیاں شامل تھیں۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تنظیم نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔