گیانیش کمار پر 2 کروڑ کی رشوت طلب کرنے کا الزام
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو کیرالامیں ویجلنس تحقیقات کا سامنا کرناپڑے گا۔ الزام ہے کہ سال 2006 میں وہ جس وقت کیرالا پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری تھے انہوں نے سرکاری ٹھیکوں کے بلوں کے کلیرنس کے لیے 2کروڑ روپیوں کی رشوت مانگی تھی۔
ترواننتاپورم (آئی اے این ایس) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو کیرالامیں ویجلنس تحقیقات کا سامنا کرناپڑے گا۔ الزام ہے کہ سال 2006 میں وہ جس وقت کیرالا پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری تھے انہوں نے سرکاری ٹھیکوں کے بلوں کے کلیرنس کے لیے 2کروڑ روپیوں کی رشوت مانگی تھی۔
وزیر داخلہ رمیش چنی تھلا نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ انہوں نے انسداد رشوت قانون کی دفعہ 17(A) کے تحت تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ منظوری دینے سے قبل انہوں نے چیف منسٹر وی ڈی ستیشن سے تبادلہ خیال کیا۔ ٹھیکہ دار وی او ساجن نے الزام عائد کیا تھا کہ گیانیش کمار نے زیر التواء بلوں کی منظوری کے لیے ملایشیائی انجینئر سے 2کروڑ روپئے مانگے تھے۔
اس انجینئر نے بعد میں خود کشی کرلی تھی۔ ساجن سب کنٹراکٹر تھا۔ وہ کمپنی کو مٹیریل سپلائی کا کام دیکھتا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ میں نے چیف منسٹر سے بات چیت کے بعد تحقیقاتی منظوری دے دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ گیانیش کمار کا فی الحال چیف الیکشن کمشنر ہونا تحقیقات میں آڑے نہیں آئے گا۔ سپریم کورٹ کی واضح رولنگ ہے کہ تحقیقات پر کوئی پابندی نہیں۔ پروٹکشن چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ کو ملا ہواہے۔
یہاں کارروائی اس معاملہ میں ہورہی ہے جب وہ سکریٹری پی ڈبلیو ڈی تھے۔ اب ویجلنس اور اینٹی کرپشن بیورو کو طے کرناہے کہ تحقیقات کیسے آگے بڑھائی جائیں۔