مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا سید احمد پاشاہ قادری کی رحلت ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک سچے عاشقِ رسولؐ، صوفیانہ روایتوں کے امین اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے قدآور قائد تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم، ملت اور جماعت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔
حیدرآباد: مقبولِ ملت حضرت مولانا سید احمد پاشاہ قادری زرین کلاہ، معتمدِ عمومی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور سابق رکنِ اسمبلی کے سانحۂ ارتحال پر مذہبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا عرفان اللہ شاہ نوری، صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام، اور حضرت مولانا قاضی اسد ثنائی، صدر الانصار فاؤنڈیشن و انتظامی کمیٹی درگاہ حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہؒ نے ایک تعزیتی بیان جاری کیا۔
تعزیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا سید احمد پاشاہ قادری کی رحلت ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک سچے عاشقِ رسولؐ، صوفیانہ روایتوں کے امین اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے قدآور قائد تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم، ملت اور جماعت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم، فخرِ ملت قدس سرہٗ اور سالارِ ملتؒ کے ہراول دستے میں شامل رہے اور قوم کی خاطر سالارِ ملت کے ہمراہ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ عنفوانِ شباب ہی سے جماعت کے مخلص سپاہی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ جماعت کے ٹکٹ پر پہلے رکنِ بلدیہ اور بعد ازاں چار مرتبہ رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔
تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ فخرِ ملت مولانا عبد الواحد اویسی، سالارِ ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی، نقیبِ ملت بیرسٹر اسد الدین اویسی اور حبیبِ ملت جناب اکبر الدین اویسی نے ہمیشہ ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کی بے مثال وفاداری اور اخلاص کے اعتراف میں انہیں جماعت کا معتمدِ عمومی منتخب کیا گیا۔
مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی نے بتایا کہ مرکزی انجمن سیف الاسلام کی جانب سے جامع مسجد چوک میں فقیہ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد عظیم الدینؒ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ، اور دیگر علما و مشائخ کی موجودگی میں مرحوم کی دینی، ملی اور قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’مقبولِ ملت‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نعت خواں حضرات کی سرپرستی کرتے اور محافلِ نعت میں عقیدت و محبت کے ساتھ شرکت فرمایا کرتے تھے۔ الانصار فاؤنڈیشن کی جانب سے ریاست نگر میں منعقدہ عظیم الشان محفلِ نعت میں بھی ان کی خدمت میں تہنیت پیش کی گئی تھی۔
تعزیتی بیان میں مزید کہا گیا کہ مقبولِ ملت اپنے خطاب کے عین مطابق عوامی قبولیت کے حامل تھے اور مسلمانوں کے سیاسی، تعلیمی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔ وہ منکسر المزاج، سادہ طبیعت اور اعلیٰ دینی ذوق کے حامل انسان تھے۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے اور حضور غوث الثقلینؓ سے نسبی تعلق کے باوجود ان میں غرور و تکبر کا شائبہ تک نہ تھا۔
وہ اولیاء اللہ کے مزارات پر عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے، سجادگان و متولیان کے مسائل کے حل میں دلچسپی لیتے اور حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہؒ کے سالانہ عرس کی نہ صرف سرپرستی کرتے بلکہ بنفسِ نفیس شرکت بھی فرماتے تھے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ مولانا سید احمد پاشاہ قادری کے انتقال سے جماعت ایک مخلص قائد اور مسلمانانِ حیدرآباد ایک ہمدرد رہنما سے محروم ہو گئے ہیں۔ دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین، وابستگان اور پسماندگان، بالخصوص مولانا سید قادر محی الدین قادری جنید پاشاہ زرین کلاہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔