مشرق وسطیٰ

ایران کے ایک حملے کے جواب میں ہم اُسے 20 بار نشانہ بناتے ہیں: ٹرمپ

انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی ہٹ لسٹ پر میں سرفہرست ہوں، ہم ایران پر سخت حملہ کیا ہے، جب بھی وہ وار کریں گے ہمارا جواب اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ ڈیل کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کا یہ رویہ معمول سے ہٹ کر ہے، تہران امریکا سے معاہدے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ ایران آئندہ بھی کسی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرن کے ایک حملے کے جواب میں ہم اُسے 20 بار نشانہ بناتے ہیں، اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا امریکہ پر ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، ہم نے گزشتہ رات ایران کو بھرپور اور مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، ایرانی حملوں پر ہم ایک حملہ کریں گے جو 20 گنا زیادہ سخت ہوگا۔


صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ٹیلیفون کر کے کہا ہے کہ وہ ڈیل چاہتا ہے، تاہم امریکی صدر نے نہیں بتایا کہ کس ایرانی اہلکار نے کس امریکی اہلکار کو ٹیلی فون کیا، انھوں نے کہا معلوم نہیں فون کرنے والے اہلکار کسی قابل ہیں بھی یا نہیں، نہیں جانتا ایرانی اہلکار اس ڈیل کو پورا بھی کریں گے یا نہیں۔


انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کی ہٹ لسٹ پر میں سرفہرست ہوں، ہم ایران پر سخت حملہ کیا ہے، جب بھی وہ وار کریں گے ہمارا جواب اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ ڈیل کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کا یہ رویہ معمول سے ہٹ کر ہے، تہران امریکا سے معاہدے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، لیکن مجھے یقین نہیں کہ ایران آئندہ بھی کسی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔


واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دوسرے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جب کہ امریکہ اور ایران نے امن معاہدے تک پہنچنے کے اپنے اتفاق کے باوجود ایک دوسرے کے خلاف سخت دھمکی آمیز مؤقف اختیار کیے رکھا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید حملوں کا فیصلہ اس غصے میں کیا کہ آبنائے ہرمز اب تک بحری آمد و رفت کے لیے نہیں کھولی گئی ہے، اور ایران نیٹو سربراہی اجلاس میں ان کی شرکت کے دوران تیل کی اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔