ہندوؤں میں بی جے پی کا وقار ختم‘ زوال یقینی
بے شمار وجوہات اور خاص طورپر ہندو عوام کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سخت ترین مخالفت اس بار بیس جے پی کے چھکے چھڑادیگی۔ ملک کے کونے کونے میں انسان پرست سیکولر ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد جس طریقہ سے بی جے پی کی مخالفت کررہی ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ بی جے پی کے دن ختم ہونے والے ہیں۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
l بھارتیہ جنتا پارٹی کی تباہی یقینی۔ کئی وجوہات کی بنا اس کی کشتی ڈوب رہی ہے۔
l عام ہندوؤں کو آر ایس ایس سے نفرت ہونے لگی ہے۔
l طلبہ کی مسابقتی امتحانوں میں وقت نہ پہنچنے دینے کی سازش بے نقاب۔
l مندر ہندوؤں کا ‘ سونا ہندوؤں کا ‘ چور بھی ہندو تو اس سے مسلمانوں کا کیا لینا ؟ ہندو لیڈر کا سوال۔
بے شمار وجوہات اور خاص طورپر ہندو عوام کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سخت ترین مخالفت اس بار بیس جے پی کے چھکے چھڑادیگی۔ ملک کے کونے کونے میں انسان پرست سیکولر ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد جس طریقہ سے بی جے پی کی مخالفت کررہی ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ بی جے پی کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر سینکڑوں کلپس اور ہندو بھائیوں کی جانب سے تقاریر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اقلیتوں و کمزور طبقات کے کاندھے سے کاندھا ملاکر بی جے پی کی نیاکو اس طرح ڈبو دیں گے کہ جس کا صدیوں تک پتہ نہیں چلے گا۔
راجستھان میں جب بارمیر کی مسجد کو کسی بھی ثبوت کے بغیر ڈھادیا گیا تو وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتنا بڑا اتحاد پیدا ہوا کہ انہوں نے زبردست ریالی نکال کر بی جے پی کو کیفر و کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ۔ اس ریالی کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بمشکل 20 فیصد مسلمان تھے جبکہ 80 فیصد ہندو بھائی تھے۔ جذباتی قائدین نے بی جے پی کو چیلنج کردیا کہ وہ اس کی اس گندی سیاست کو اب اور برداشت نہیں کریں گے اور اگر بُرا وقت آجائے تو ہندو بھائی مسلمان کے لئے اور مسلمان بھائی ہندو کے لئے اپنے سینے پر گولی سہنے کو تیار رہے گا۔
رام مندر میں چوریوں کے واقعات کو بھی انہوں نے زبردست بحث کا موضوع بنایا اور یہ کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں نہ تو رام کی مندر محفوظ ہے اور نہ ہی رحیم کی مسجد۔ سوشیل میڈیا پر اس قائد کا زبردست مذاق اڑایا جارہا ہے جس نے یہ کہا تھا کہ ’’رام مندر‘‘ ہندوؤں کی ہے ،چڑھاوا ہندوؤں کا ہے اور چوری بھی ہندوؤں نے کی ہے تو پھر اس سے مسلمانوں کا کیا لینا دینا۔اس لیڈر کی اس سوچ سے بھی سنگھ پریوار کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ راجستھان کے جلسہ میں بی جے پی کو وارننگ دی گئی کہ وہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کو کسی طرح کی بھی کوئی زک نہ پہنچائے ورنہ اس کا انجام بہت بُرا ہوگا۔
اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس ایسا کوئی مسئلہ نہیں رہا جسے وہ چھیڑ کر اپنی ناکامیوں کو چھپا سکے لیکن ایک انتہا شرمناک بات سامنے آئی ہے کہ مسابقتی امتحانوں میں شریک ہونے والے طلبہ و طالبات کی ٹرینوں کے سفر میں خلل پیدا کیا جارہا ہے تاکہ وہ دیر سے چلے اور دیر سے ہی منزل مقصود پر پہنچ سکیں۔ اس طرح کی سازش سے بی جے پی کے ایجنٹ مبینہ طورپر ان امتحانوں میں طلبہ کی شرکت کو ناکام بنارہے ہیں کیونکہ نوکریوں کا اعلان تو کیا جارہا ہے لیکن بھرتیوں میں دیری سے نوجوانوں کے حوصلے پست ہورہے ہیں اور وہ مقررہ وقت پر امتحانی مراکز پر پہنچ نہیں پارہے ہیں نتیجتاً انہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے جس کے سبب ان کی کئی برسوں کی محنت اکارت ہورہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان کی سب سے طاقتور سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ تاہم، ہر بڑی سیاسی جماعت کی طرح بی جے پی بھی اندرونی اختلافات، قیادت کے مسائل اور تنظیمی چیلنجز سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ حالیہ عرصے میں مختلف ریاستوں میں پارٹی کے اندر اختلافات، سینئر اور جونیر قیادت کے درمیان کشیدگی، ٹکٹوں کی تقسیم پر ناراضگیاں اور ریاستی سطح پر دھڑلے بندی جیسے عوامل نے اندرونی بحران کی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بی جے پی کی سب سے بڑی طاقت اس کی مضبوط تنظیم اور نظریاتی وابستگی سمجھی جاتی ہے، لیکن جب اقتدار طویل عرصے تک ایک جماعت کے پاس رہتا ہے تو قیادت، اختیارات اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے اختلافات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
مختلف ریاستوں میں کئی مواقع پر سینئر رہنماؤں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ بعض نے پارٹی چھوڑ کر دوسری جماعتوں کا رخ بھی کرلیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی کو درپیش اہم چیلنجوں میں ریاستی قیادت اور مرکزی قیادت کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنا، نئی نسل کے رہنماؤں کو آگے لانا اور پرانے کارکنوں کا اعتماد بحال رکھنا شامل ہے۔ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم، وزارتی عہدوں کی خواہش اور علاقائی سیاسی مفادات بھی بعض اوقات اختلافات کو ہوا دیتے ہیں۔
دوسری جانب، بی جے پی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی جماعت میں مختلف آراء کا ہونا غیر معمولی بات نہیں، اور پارٹی اپنی تنظیمی ساخت کے ذریعے ایسے اختلافات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پارٹی یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا نظم و ضبط اور تنظیمی ڈھانچہ اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جمہوری سیاسی جماعت میں اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے۔ اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ قیادت ان اختلافات کو کس حد تک مؤثر انداز میں سنبھالتی ہے۔ اگر اندرونی مسائل کو بروقت حل نہ کیا جائے تو ان کے اثرات انتخابی نتائج اور عوامی اعتماد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آنے والے انتخابات اور سیاسی حالات اس بات کا تعین کریں گے کہ بی جے پی اپنے اندرونی اختلافات پر کس حد تک قابو پاتی ہے اور اپنی سیاسی برتری برقرار رکھنے میں کتنی کامیاب رہتی ہے۔ ہندوستانی سیاست میں بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر ہر سیاسی جماعت کے لیے تنظیمی اتحاد، کارکنوں کا اعتماد اور مؤثر قیادت ہی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہندوؤں کی اکثریت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوؤں کی جماعت نہیں سمجھتی اور آر ایس ایس کو ہندوؤں کی کٹر دشمن سمجھنے لگی ہیں اور یہی وہ راز ہے جس کے چلتے بی جے پی کی بربادی یقینی ہے۔ مودی کے بارے میں تو یہی کہنا پڑے گا کہ
تخت والوں کو خبر ہی نہیں حالات کی
شہر جلتے رہے وہ جشن مناتے رہے
۰۰۰٭٭٭۰۰۰