15 سال بعد مسجدِ نور، سوریہ نگر میں نئی منیجنگ کمیٹی تشکیل، نمازیوں میں خوشی کی لہر
وقف بورڈ کی جانب سے انسپکٹر کم آڈیٹر جناب رضوی کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق ذمہ داران کی جانب سے وقف بورڈ کو مالی حسابات پیش نہیں کیے گئے، وقف فنڈ کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، حسابات کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور جاری کردہ شوکاز نوٹسز کا بھی جواب جمع نہیں کیا گیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے مسجدِ نور، سوریہ نگر، شیک پیٹ کے انتظامی اور مالی معاملات سے متعلق طویل عرصے سے جاری شکایات اور تحقیقات کے بعد مسجد کے لیے نئی منیجنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کے بعد مقامی نمازیوں اور عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسجدِ نور کے انتظامی اور مالی امور کے حوالے سے گزشتہ کئی برسوں سے شفافیت کی کمی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ رہے تھے، جس پر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری کا حکم دیا تھا۔
وقف بورڈ کی جانب سے انسپکٹر کم آڈیٹر جناب رضوی کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق ذمہ داران کی جانب سے وقف بورڈ کو مالی حسابات پیش نہیں کیے گئے، وقف فنڈ کے واجبات ادا نہیں کیے گئے، حسابات کا آڈٹ نہیں کرایا گیا اور جاری کردہ شوکاز نوٹسز کا بھی جواب جمع نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں مسجد کے فنڈز میں مبینہ بے ضابطگیوں، مالی نظم و نسق میں خامیوں اور انتظامی معاملات میں شفافیت کے فقدان کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے بعد وقف بورڈ نے انتظامی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 15 سال بعد نئی منیجنگ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
وقف بورڈ کے انسپکٹر کم آڈیٹر جناب رضوی نے مسجد کا باضابطہ چارج، متعلقہ دستاویزات اور چابیاں نئی کمیٹی کے حوالے کر دیں۔ اس موقع پر مقامی نمازیوں اور عوام نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔
نئی منیجنگ کمیٹی میں جناب ظفر مسعود کو صدر، جناب محمد رشید احمد کو نائب صدر، جناب محمد آصف حسین سہیل کو جنرل سیکریٹری اور جناب رضوان عباس کو خازن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر اراکین میں جناب محمد مجیدالدین، جناب شیخ عثمان باخطیب، جناب منیرالدین احمد، جناب سید حامد علی ذیشان، جناب محمد فضل اللہ، جناب سید عبد الحمید اور جناب نظام الدین احمد شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مسجد کے دینی، تعلیمی، سماجی اور انتظامی امور میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے ایک ایڈوائزری کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
نومنتخب جنرل سیکریٹری جناب محمد آصف حسین سہیل نے اس موقع پر کہا کہ نئی کمیٹی مسجد کو صرف عبادت کی جگہ نہیں بلکہ علم، تربیت، سماجی خدمت اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے ایک مثالی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے کام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں مسجد میں قرآن تعلیم کلاسز، حفظ پروگرام، یوتھ گائیڈنس، کیریئر کونسلنگ، خواتین کے تعلیمی و تربیتی پروگرام، مفت طبی کیمپ، بلڈ ڈونیشن کیمپ، فری فیونرل سروس، فلاحی سرگرمیوں، اسکالرشپ معاونت، اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز اور دیگر سماجی خدمات کا آغاز کیا جائے گا۔
منیجنگ کمیٹی اور نمازیوں نے اس موقع پر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے چیئرمین جناب عظمت اللہ حسینی، چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب اسداللہ، رکن پارلیمنٹ جناب اسدالدین اویسی، مقامی عوامی نمائندوں اور دیگر متعلقہ شخصیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی کمیٹی دیانت داری، شفافیت اور مشاورت کے اصولوں کے تحت مسجدِ نور کو حیدرآباد کی ایک مثالی مسجد اور ماڈل اسلامک سینٹر میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگی۔