اقلیتی طلبا کی پری میٹرک اسکالرشپ چھین کر کیا ملے گا: کھرگے
کھرگے نے کہا ”نریندر مودی جی‘ آپ کی حکومت نے ایس سی‘ ایس ٹی‘ او بی سی اور یکم تا 8 ویں جماعتوں کے اقلیتی طلبا کے لئے مختص پری میٹرک اسکالرشپ کو بند کردیا ہے۔

نئی دہلی: صدر کانگریس ملیکارجن کھرگے نے حکومت کی جانب سے یکم تا 8 ویں جماعت کے اقلیتی طلبا کی اسکالرشپس روکے جانے کے ایک دن بعد مودی حکومت سے سوال کیا کہ اسے غریب طلبا کی رقم ”چھین لینے سے“ کیا ملے گا۔
حکومت نے منگل کے روز اقلیتی برادریوں کے 9 ویں اور 10 ویں جماعت کے طلبا کے لئے اپنی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو محدود کردیا ہے اور کہا کہ حق ِ تعلیم قانون کے تحت 8 ویں جماعت تک کے تمام طلبا کے لئے تعلیم کو لازمی بنایا گیا ہے۔
قبل ازیں پری میٹرک اسکالرشپ کے تحت یکم تا 8 ویں جماعت کے طلبا‘ ایس سی اور ایس ٹی طلبا کا احاطہ کیا جاتا تھا۔ کھرگے نے کہا ”نریندر مودی جی‘ آپ کی حکومت نے ایس سی‘ ایس ٹی‘ او بی سی اور یکم تا 8 ویں جماعتوں کے اقلیتی طلبا کے لئے مختص پری میٹرک اسکالرشپ کو بند کردیا ہے۔
غریب طلبا کو اسکالرشپس سے محروم کرنے میں کیا نکتہ پوشیدہ ہے؟ غریب طلبا کی یہ رقم چھین لینے سے آپ کی حکومت کو کیا حاصل ہوگا یا کیا بچت ہوگی۔
واضح رہے کہ حکومت نے اپنی ایک نوٹس میں اپنے فیصلہ کو حق بجانب قراردیا ہے اور آر ٹی ای قانون 2009 کے تحت حق ِ تعلیم کو اجاگر کیا ہے جس کے تحت حکومت کے لئے ہر بچہ کو مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم(یکم تا 8 ویں جماعت) فراہم کرنے کی پابند ہے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ اسی کے مطابق 9 ویں اور 10 ویں جماعت میں زیرتعلیم بعض طلبا کا وزارت ِ سماجی انصاف و بااختیاری اور وزارت ِ قبائلی امور کی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت احاطہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح 2022-23 وزارت ِ اقلیتی امور کی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت بھی 9 ویں اور 10ویں جماعت کے طلبا کا ہی احاطہ کیا جائے گا۔
اس فیصلہ پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کانگریس اور بی ایس پی نے حکومت پر غریبوں کے خلاف سازش رچنے کا الزام عائد کیا۔
کانگریس قائد رندیپ سرجے والا نے کہا کہ بی جے پی گزشتہ 8 سال سے مسلسل ایسی حرکتیں کررہی ہے چاہے وہ ایس سی / ایس ٹی / او بی سی اور اقلیتوں کے بجٹ میں کٹوتی کا معاملہ ہو یا پھر ان پر مظالم ہوں یا پھر ان کے لئے فلاحی اسکیمات کو ختم کرنے کا معاملہ ہو۔ ہم اسے قبول نہیں کرتے‘ ہم حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ یہ فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔
بی ایس پی لیڈر دانش علی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو اول تا 8 ویں جماعت کے اقلیتی طلبا کو دی جانے والی اسکالرشپ کو بند کرتے ہوئے ان غریب بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا ایک نیا طریقہ مل گیا ہے۔ یہ مت بھولیں کہ تعلیم یافتہ بچے ہی ملک کو آگے لے جاتے ہیں چاہے ان کا کسی بھی برادری سے تعلق ہو۔