کرناٹک

غیرقانونی اسقاط حمل کے دوران خاتون کی موت، والدین گرفتار

کرناٹک پولیس نے غیرقانونی اسقاط حمل کے دوران فوت ہونے والی خاتون کے والدین کو گرفتار کرلیا۔والدین پر اپنی بیٹی کو رحم میں موجود لڑکی کے حمل کو نہ رکھنے کی حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔

بنگلورو: کرناٹک پولیس نے غیرقانونی اسقاط حمل کے دوران فوت ہونے والی خاتون کے والدین کو گرفتار کرلیا۔والدین پر اپنی بیٹی کو رحم میں موجود لڑکی کے حمل کو نہ رکھنے کی حوصلہ افزائی کا الزام ہے۔

متعلقہ خبریں
بچہ کی جنس کا پتا چلانے بیوی کا پیٹ چیرنے والے شخص کو سخت سزا

یہ واقعہ باگلکوٹ ضلع کے مہالنگ پور ٹاؤن کا ہے۔ گرفتار ملزمین کی شناخت والد سنجے گؤلی اور ماں سنگیتا گؤلی کی حیثیت سے کی گئی۔

مہاراشٹرا کے سانگلی کی ساکنہ 33سالہ سونالی نے رحم میں لڑکی ہونے کا علم ہونے کے بعد مہالنگ پور میں واقع اپنے گھر پر حمل ساقط کروایا۔ اس کی پہلے سے دو بیٹیاں ہیں۔

27/ مئی کو خاتون کی موت ہوگئی جس کے بعد سانگلی پولیس نے اصل ملزمہ نرس کویتا بڈناور سمیت سات افراد کو گرفتار کیا۔ کویتا نے اسقاط حمل کیا تھا۔

ابتدائی تحقیقات میں اشارہ ملا کہ متوفی سونالی نے رحم میں موجود جنین کی جنس کا پتا لگانے مہاراشٹرا میں اسکاننگ کروائی تھی اور ملزم نرس کو اسقاط حمل کے لیے 40ہزار روپئے ادا کیے تھے۔

یہ کیس مہاراشٹرا کے سانگلی پولیس اسٹیشن سے باگلکوٹ ضلع کے مہالنگ پورپولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم نرس کویتا کے خلاف 2022ء میں بھی ایسا ہی کیس درج ہوا تھا۔ کویتا خانگی دواخانہ میں ملازم ہے۔ ابتدائی جانچ میں پتا چلا کہ اس کے پاس اسکاننگ مشین تھی اور حکام نے مشتبہ ریاکٹ میں کچھ بااثر افراد کے ملوث ہونے کی تحقیقات شروع کردی۔

بہبود اطفال کمیٹی کے رکن ششی دھر کوسومبے‘ پولیس کے ساتھ ملزم کویتا کے گھر پہنچے اور ضلع کے صحت و خاندانی بہبود کے عہدیدار ڈی بی پٹناشیٹی کی لاپرواہی پر تنقید کی۔

کوسومبے نے کہا کہ یہ کسی بھی مہذب معاشرہ کے لیے شرمناک واقعہ ہے۔ کویتا کی سرگرمیوں کے تئیں حکام کی لاپرواہی عیاں ہے۔ حکومت کو رپورٹ روانہ کی جائے گی اور کمیٹی ایک علاحدہ شکایت درج کروائے گی۔“