تلنگانہ

صدرجمہوریہ مرمو کے خطبہ کا بائیکاٹ کیاجائے گا: بی آر ایس

بی آر ایس پارٹی نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کے خطبہ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج صدر بی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھرراؤ کی قیادت میں بی آر ایس پارلیمنٹری پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

حیدرآباد: بی آر ایس پارٹی نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کے خطبہ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج صدر بی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھرراؤ کی قیادت میں بی آر ایس پارلیمنٹری پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

متعلقہ خبریں
بی آر ایس کی 16نیوز چانلس کے خلاف شکایت
1969 کی تحریک میں طلبہ پر کس نے گولی چلانے کی ہدایت دی؟ کے ٹی آر کا سوال
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
کے ٹی آر کے بے مقصد انٹرویوز سے پارٹی کو شکست
میں بلیوں کونہیں بلکہ شیروں کونشانہ بناؤں گا۔چیف منسٹر کے تبصرہ کے بعد بی آر ایس کیڈرمیں ہلچل

اجلاس میں کے سی آر نے اپنے پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو بجٹ اجلاس کے دوران اختیار کئے جانے والے طرز عمل پر رہنمائی کی۔ کے سی آر نے صدر جمہوریہ کے بجٹ خطبہ کا بائیکاٹ کرنے اور حالات کے مطابق وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو مرکزی حکومت کی ناکامیوں کا پردہ فاش کرنے کیلئے پارلیمنٹ اجلاس سے بہتر انداز میں استفادہ کرنے کی ہدایت دی۔

واضح رہے کہ 31 جنوری سے پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن کا دومرحلوں میں انعقاد عمل میں لایاجائے گا۔ پہلا مرحلہ 31 جنوری تا 13 فروری اور دوسرا مرحلہ 13 مارچ تا 6 اپریل تک منعقد کیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہاکہ عوام کی جانب سے جمہوری انداز میں منتخبہ حکومتوں کو مرکزی حکومت گورنروں کے ذریعہ پریشان کررہی ہے۔

گورنر نظام پر پارلیمنٹ میں مباحث پرزور دینے مطالبہ کیاجانا چاہئے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں روبہ عمل رعیتو بندھو اسکیم اور زرعی مقاصد کیلئے مسلسل 24 گھنٹے برقی سربراہی کیلئے دباؤ ڈالنے کا مشورہ دیا۔ آئی اے این ایس کے مطابق بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے کہاکہ پارلیمنٹ میں وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں کو اجاگر کریں گے اور گورنر دفتر کے غلط استعمال کے مسئلہ کو بھی موضوع بحث بنائیں گی۔

بی آر ایس کے سربراہ چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ کی زیر صدارت اتوار کے روز پرگتی بھون میں منعقدہ بی آر ایس کے پارلیمنٹری پارٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ کے چندرشیکھرراؤ نے واضح انداز میں کہاکہ مرکز کی غیر جمہوری پالیسیوں کو ممکنہ پارلیمانی وجمہوری طریقوں ے بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ اس سمت میں انہوں نے واضح طورپر کہاہے کہ بی آر ایس کو دیگر جماعتوں کے ساتھ شامل ہوناچائے تاکہ پارلیمنٹ کے دوران ایوانوں میں مرکز کو بے نقاب کیاجاسکے۔

بی آر ایس چیف نے الزام عائد کیاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت جذبہ وفاق کو نظر انداز کررہی ہے اور کئی طریقوں سے ریاستوں کی پریشانیوں کا سبب بن رہی ہے۔ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اُٹھانا چاہئے۔ تلنگانہ جو ترقی کی راہ پر گامزن ہے، کی مالیاتی اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے پس پردہ وجوہات کی صراحت کرنے کیلئے مرکز کو مجبور کرنا چاہئے۔

بی آر ایس کے ارکان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں گورنری نظام کو استعمال کرنے اور مرکز کی دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرنا چاہئے۔ مودی حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بی آر ایس کے پارلیمنٹری اجلاس جو تقریباً 4 گھنٹوں تک جاری رہا، میں کئی مسائل پر غور وخوض کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ مرکز کی لاپرواہی اور خطرناک پالیسیوں پر عمل آوری سے ملک کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔

مرکز کی بی جے پی حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی سالمیت اور اس کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ مرکز، عوام کے پسینہ کی کمائی کو اپنے کارپوریٹ دوستوں کے حوالے کررہا ہے۔ مرکزی حکومت، دوست کارپوریٹس طاقتوں پر مہربان ہورہی ہے اور ان کا لاکھوں کروڑوں روپئے کا قرض معاف کردیا گیا ہے۔ عوامی شعبہ کی کمپنیوں جیسے ایل آئی سی کے حصص کو بڑے تاجروں جیسے اڈانی کمپنیوں کو منتقل کررہی ہے۔

ملک کی کمپنیوں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے۔ چندرشیکھرراؤ نے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیاکہ وہ دونوں ایوانوں میں مرکز کی خطرناک معاشی پالیسیوں کیخلاف اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے بیروزگار ی کے مسئلہ پر بھی آواز بلند کرنے پر زوردیا ہے۔

اجلاس میں پارلیمنٹری پارٹی لیڈرس ڈاکٹر کے کیشوراؤ(راجیہ سبھا)، ناما ناگیشور راؤ(لوک سبھا)، ارکان پارلیمنٹ جئے سنتوش کمار، کے آر اے سریش ریڈی، بی لنگیا یادو، وی روی چندرا، بی پارتھا سارتھی، ڈی دامودھر راؤ، کے پربھاکر ریڈی، بی بی پاٹل، این سرینواس ریڈی، ایم کویتا نائک، پی دیاکر، بی وینکٹیش، پی راملو اور دیگر شریک تھے۔

a3w
a3w