مضامین
ٹرینڈنگ

فحاشی کا سیلاب

ٹیلی ویژن اور اسمارٹ فونس اور ڈیجیٹل میڈیا اور پروگرامس نے یہ قیامت ڈھائی ہے کہ بے حیائی کے جو کام سینما ہالوں، نائٹ کلبوں اور رقص گاہوں تک محدود تھے، اس کے ذریعہ ایک ایک گھر کے ڈرائنگ روم میں گھس آئے ہیں، جو لوگ سینما ہالوں تک پہنچنے سے کتراتے تھے اب وہ گھر بیٹھے سرفراز ہوتے ہیں، اور رفتہ رفتہ بڑے چھوٹے اور اپنے پرائے کی تمیز اس حد تک مٹ گئی ہے کہ باپ ، بہو،بیٹیاں اور بہن بھائی رقص و سرور اور فلموں کے خالص فحش مناظرنہ صرف ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں بلکہ ان پر تبصرے بھی کرتے ہیں۔

قاری ایم ایس خان
9391375008

یہ حقیقت انتہائی کربناک اور تشویشناک ہے کہ اب دوسری سینکڑوں بدعنوانیوں کے ساتھ اس معاملہ میں بھی ہمارے معاشرہ کا مزاج نہایت تیز رفتاری سے بدل رہا ہے اور مغربی معاشرے کی وہ تمام لعنتیں جنہوں نے مغرب کو اخلاقی تباہی کے آخری سرے پر پہنچادیا ہے، رفتہ رفتہ ہمارے درمیان تباہ کن رفتار سے سرایت کررہی ہیں یہاں تک کہ وہ خاندان جو عفت و عصمت شرافت و متانت اور شرم و حیاء کے اعتبار سے مثالی سمجھے جاتے تھے اب ان میں بھی بے پردگی، بے حیائی اورعریانیت اپنی پوری فتنہ سامانیوں اور تباہ کاریوں کے ساتھ گھس آیا ہے ۔

ٹیلی ویژن اور اسمارٹ فونس اور ڈیجیٹل میڈیا اور پروگرامس نے یہ قیامت ڈھائی ہے کہ بے حیائی کے جو کام سینما ہالوں، نائٹ کلبوں اور رقص گاہوں تک محدود تھے، اس کے ذریعہ ایک ایک گھر کے ڈرائنگ روم میں گھس آئے ہیں، جو لوگ سینما ہالوں تک پہنچنے سے کتراتے تھے اب وہ گھر بیٹھے سرفراز ہوتے ہیں، اور رفتہ رفتہ بڑے چھوٹے اور اپنے پرائے کی تمیز اس حد تک مٹ گئی ہے کہ باپ ، بہو،بیٹیاں اور بہن بھائی رقص و سرور اور فلموں کے خالص فحش مناظرنہ صرف ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں بلکہ ان پر تبصرے بھی کرتے ہیں۔اشتہار بازوں نے عورت کو پیسہ کمانے کا ایک حربہ سمجھ لیا ہے ۔ چنانچہ دنیا کی کسی چیز کااشتہار عورت کی تصویر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، قدرت کی اس مقدس تخلیق کو ایک کھلونا بناکر استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے ایک ایک عضو کی عریاں نمائش کرکے گاہکوں کو مال خریدنے کی دعوت دی جارہی ہے۔

چنانچہ سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک شریف انسان کے لئے نگاہوں کو بچانامشکل ہے ۔ یہ کہانی تو صرف ان فحاشیوں کی ہے جو متوسط اور کم آمدنی والے حلقوں میں پھیلی ہوئی ہیں ان سے آگے بڑھ کر دولت مند طبقوں اور نام نہاد ’’اونچی سوسائٹیوں‘‘ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا تصور بھی لرزہ خیز ہے !’ ماڈل گرلز‘‘ اور ’’سنگرگرلز‘‘ OYO اور مخلوط تفریحی گاہیں و ملازمت گاہوںکے ذریعہ عصمت فروشی، تہذیب کا جز بن گئی ہے ۔ پستی و ذلت کی انتہا ہے کہ ان ’’ اونچے حلقوں‘‘ میں ’’ تبادلہ ازدواج‘‘ کے باقاعدہ کلب قائم ہیں …

ساحر لدھیانوی نے عورت کی بے بسی اور مردوں کی بے حسی پر کیا خوب لکھا ہے …

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میں
ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں
یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
مردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطا
مردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزا
مردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتا
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہے
اوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے
یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ صبح و شام اپنی آنکھوں سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو عیاشی و فحاشی کی بھینٹ چڑھتا دیکھتے ہیں لیکن ان کواس مصیبت سے بچانے کا کوئی جذبہ ہمارے دل میں پیدا نہیں ہوتا نہ ہمیں اس نوخیز نسل پر کوئی رحم آتا ہے ۔ نہ ان کے مستقبل کی کوئی فکر دامن گیر ہوتی ہے نہ تباہی کے اس سیلاب کو روکنے کیلئے سینوں میں عزم وعمل کی کوئی لہر اٹھتی ہے، کوئی بہت زیادہ حساس انسان ہے تو وہ اس صورت حال پر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش ہوجاتا ہے زیادہ سے زیادہ کسی محفل میں اس کی برائیوں پر تبصرہ کرلیتا ہے…لیکن یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے ؟ اس کی ذمے داری کس پر ہے؟ اس سیلاب کو روکنے کی عملی صورت کیا ہے؟ ان تمام سوالات کے آگے ہماری عقل و فکر، فہم و فراست، قوتِ عمل اور نیکی و تقویٰ کے تمام جذبات نے سپر ڈال رکھی ہے ۔

واقعہ یہ ہے کہ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے صرف سینما، ٹی وی، ریڈیو نشرواشاعت اسمارٹ فونس، اور کھلم کھلا فحاشی و عریانیت کے ذرائع اور حکومت کی بے حسی کا شکوہ کرنے سے بات نہیں بنتی یہ سب چیزیں بلا شبہ اس تباہی کی ذمہ دار ہیں، لیکن ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی بہت بڑی ذمہ داری خود ہم پر عائد ہوتی ہے ہم خود اپنے جہد وعمل سے اس فحاشی وعریانی کے خلاف ایک عام مدافعانہ شعور لوگوں میں پیدا کرسکتے ہیں لہٰذا ابھی وقت ہے کہ ہم بے راہ روی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کوروکنے کی کوشش کریں جب پانی سر سے اونچا ہوچکے گا تو قانون اور اخلاقیات کی ساری مشنریاں اس طوفان کو روکنے میں ناکام ہوجائیں گی ۔

ہماری نظر میں فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ ملت کا درد رکھنے والے اصحاب صرف ایک ’’انسدادِ فواحش‘‘ کے مقصد کو لے کھڑے ہوں اور اسی کو اپنی سوچ بچار اور جدوجہد کا موضوع بنائیں، دنیامیں چھوٹے چھوٹے مقاصد کے لئے بڑی بڑی انجمنیں اور جماعتیں قائم ہیں لیکن کوئی ایسی انجمن نظر نہیں آتی جو خالص انسدادِ فحاشی کے کا کررہی ہو اگر کوئی انجمن قائم ہوجائے اوراس کے اصحاب روزانہ کچھ وقت فارغ کرکے اس مقصد میں صرف کریں تو ابھی اصلاح کی کافی توقع کی جاسکتی ہے ۔ یہ کام ایک دو روز میں پورا ہوجانے والا نہیں اس کے لئے مسلسل جدوجہد متواتر عمل اور مستقل سوچ بچار کی ضرورت ہے ۔ جب تک کوئی معین جماعت اس کام کیلئے کھڑی نہیں ہوگی، اس وقت تک اس کی اہمیت محسوس کرنے والے حضرات بھی اسے آج سے کل اور کل سے پرسوں پر ٹلاتے رہیں گے ۔

لیکن یہ ضروری ہے کہ جو جماعت یا انجمن یہ کام لے کر اٹھے اس پر کوئی سیاسی چھاپ نہ ہو ،اس میں ہر شعبۂ زندگی کے افراد شامل ہوں اور وہ صرف اس محدود کام کواپنا محور و مقصد بناکر سرگرم ہو کام شروع کرنے کے بعد خوداس کے نئے نئے راستے نظر آئیں گے اور دل میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق، اسلام کے لئے خلوص اور ملت کا سچا درد ہوتو ایسی کوشش رائیگاں نہیں جاسکتی ، اللہ تعالیٰ کچھ حساس دلوں میں اس کام کی اہمیت پیدا فرمادے اور وہ وقت کی اس اہم ضرورت کو پورا کرسکیں۔
٭٭٭