شمالی بھارت

گیان واپی کیس، اے ایس آئی سروے رپورٹ کی نقل حاصل کرنے 11 درخواستیں

ہندو اور مسلم فریق سے تعلق رکھنے والے 11 افراد نے گیان واپی مسجد کامپلکس کی اے ایس آئی سروے رپورٹ کی نقولات کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں۔

وارانسی: ہندو اور مسلم فریق سے تعلق رکھنے والے 11 افراد نے گیان واپی مسجد کامپلکس کی اے ایس آئی سروے رپورٹ کی نقولات کے لئے درخواستیں داخل کی ہیں۔

متعلقہ خبریں
گیان واپی سروے، آثارِ قدیمہ کو مزید مہلت
گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں پوجا، سماعت ملتوی
40وکلاء کے خلاف ”جھوٹا کیس“ درج کرنے پر پولیس عہدیدار معطل
اب گیان واپی مسجدکے وضوخانہ کے سروے کا مطالبہ
متھرا کے شاہی عیدگاہ مسجد کامپلکس کے سروے پر روک برقرار

ہندو فریق کے وکیل نے یہ بات بتائی۔ ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے کہا کہ توقع ہے کہ درخواست گزاروں کو درخواستوں کی تنقیح کے بعد جمعرات یا پیر کے روز رپورٹ مل جائے گی۔

محکمہ آثار ِ قدیمہ(اے ایس آئی) نے گزشتہ سال 21 جولائی کو ضلع عدالت کے ایک حکم پر گیان واپی احاطہ کا سائنٹفک سروے کیا تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ آیا مسجد پہلے سے موجود ہندو مندر کے ڈھانچہ پر تعمیر کی گئی ہے؟۔

یادو نے بتایا کہ دوپہر تک دونوں طرف کے 11 افراد نے اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کے لئے درخواست داخل کی۔ یادو کے مطابق ہندو فریق سے تعلق رکھنے والے 5 درخواست گزاروں‘ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی‘ کاشی وشواناتھ ٹرسٹ‘ ریاستی حکومت‘ چیف سکریٹری‘ معتمد داخلہ اور وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ نے سروے رپورٹ کی نقل حاصل کرنے کی درخواست داخل کی ہے۔

چہارشنبہ کے روز ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش نے رولنگ دی تھی کہ گیان واپی مسجد کامپلکس کی اے ایس آئی سروے رپورٹ ہندو اور مسلم دونوں فریقوں کو دی جائے گی۔

معاملہ کی سماعت کے بعد جج وشویش نے کہا تھا کہ مقدمہ کے دونوں فریق کو اے ایس آئی کی جانب سے عدالت میں داخل کی گئی سروے رپورٹ کی نقولات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ لوگ اس پر اپنے اعتراضات داخل کرسکیں۔

عدالت نے کاشی وشواناتھ مندر ٹرسٹ‘ وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ اورریاستی معتمد داخلہ کو اجازت دی کہ وہ اے ایس آئی کی سروے رپورٹ کی ایک نقل حاصل کریں۔ عدالت نے راکھی سنگھ اور دیگر کی جانب سے داخل کی گئی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔