تلنگانہ میں گنیش وسرجن کے دوران 13 افراد ہلاک، ایک ایس آئی بھی شامل
سی وی آنند نے بتایا کہ تلنگانہ بھر میں مجموعی طور پر 1.24 لاکھ گنیش کی مورتیاں نصب کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ گھروں، گیٹیڈ کمیونٹیز اور اپارٹمنٹس میں نصب کی جانے والی مورتیوں کو شامل کیا جائے تو ریاست میں گنیش کی مجموعی تعداد تقریباً 3.5 لاکھ سے 4 لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں گنیش وسرجن کے دوران مختلف حادثات میں 13 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں ایک سب انسپکٹر (ایس آئی) بھی شامل ہے، جبکہ مزید 26 افراد زخمی ہوئے۔ یہ بات ریاستی ڈی جی پی سی وی آنند نے بتائی۔
ڈی جی پی کے مطابق ریاست بھر میں گنیش وسرجن کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے اور مختلف مقامات پر عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے جلوسوں میں شرکت کی۔
سی وی آنند نے بتایا کہ تلنگانہ بھر میں مجموعی طور پر 1.24 لاکھ گنیش کی مورتیاں نصب کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ گھروں، گیٹیڈ کمیونٹیز اور اپارٹمنٹس میں نصب کی جانے والی مورتیوں کو شامل کیا جائے تو ریاست میں گنیش کی مجموعی تعداد تقریباً 3.5 لاکھ سے 4 لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
گنیش وسرجن کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر جلوس نکالے گئے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں نے ہجوم کو منظم کرنے، ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔
اس کے باوجود وسرجن کے دوران مختلف مقامات پر حادثات پیش آئے، جن میں 13 افراد کی جان چلی گئی جبکہ 26 دیگر زخمی ہوئے۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس سب انسپکٹر بھی شامل ہے۔ اس واقعہ کے بعد حکام نے عقیدت مندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وسرجن کے دوران احتیاط برتیں، خاص طور پر آبی ذخائر اور بھیڑ والے مقامات پر حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔