اے پی کے راجمندری میں زہریلا دودھ پینے سے 4 افراد کی موت،متاثرین کوبہتر علاج کی سہولت فراہم کرنے وزیراعلی کی ہدایت
ضلع کلکٹر مشرقی گوداوری کیرتی چیکوری اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی نرسمہا کشور نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ گاؤں سے نہ صرف دودھ کے نمونے بلکہ ان افراد کے خون کے نمونے بھی جمع کئے گئے ہیں جنہوں نے یہ دودھ پی کر طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تھی۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش کے شہر راجمندری کے علاقہ سروپ نگر میں مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ دودھ پینے سے چار افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔
ضلع کلکٹر مشرقی گوداوری کیرتی چیکوری اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی نرسمہا کشور نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ متاثرہ گاؤں سے نہ صرف دودھ کے نمونے بلکہ ان افراد کے خون کے نمونے بھی جمع کئے گئے ہیں جنہوں نے یہ دودھ پی کر طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تھی۔
یہ تمام نمونے تجزیہ کے لئے وشاکھاپٹنم کی لیبارٹری بھیج دیئے گئے ہیں۔ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ دودھ میں کس قسم کی ملاوٹ کی گئی تھی۔
اس زہریلے دودھ کے استعمال سے کئی دیہاتیوں کی صحت بگڑ گئی ہے جبکہ بعض معمر افراد میں گردوں کے مسائل پیدا ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ پولیس نے مشتبہ دودھ فروخت کرنے والے شخص کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ آندھرا پردیش این چندر بابو نائیڈو نے واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ تمام متاثرین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انتظامیہ نے سروپ نگر میں گھر گھر سروے شروع کر دیا ہے تاکہ ہر شہری کی صحت کا حال معلوم کیا جا سکے جبکہ متاثرہ علاقوں میں خصوصی ہیلت کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دودھ کی خریداری کے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں۔