قومی
ٹرینڈنگ

6 مسلمانوں کے مذہب تبدیل کرنے کا دعویٰ، ہریدوار میں گنگا اشنان کے بعد سناتن دھرم اختیار

اترپردیش کے پیلی بھیت ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 5 افراد سمیت 6 مسلمانوں نے اپنی مرضی سے ہندو دھرم اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مذہب کی تبدیلی کی یہ تقریب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں چندی گھاٹ کے مقدس گھاٹ پر منعقد ہوئی، جہاں تمام 6 افراد نے گنگا میں اشنان کرنے کے بعد ویدک منتر اور ہندو مذہبی رسومات میں حصہ لیا۔

لکھنؤ: اترپردیش کے پیلی بھیت ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے 5 افراد سمیت 6 مسلمانوں نے اپنی مرضی سے ہندو دھرم اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مذہب کی تبدیلی کی یہ تقریب اتراکھنڈ کے ہریدوار میں چندی گھاٹ کے مقدس گھاٹ پر منعقد ہوئی، جہاں تمام 6 افراد نے گنگا میں اشنان کرنے کے بعد ویدک منتر اور ہندو مذہبی رسومات میں حصہ لیا۔

اطلاعات کے مطابق پیلی بھیت ضلع کے رہنے والے مہد اور ان کی اہلیہ سبینہ بی بی نے اب بالترتیب موہت اور خوشی نام اختیار کرلیا ہے۔ مہد، جو اب موہت کے نام سے شناخت ظاہر کررہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ اپنی مرضی اور آزادانہ طور پر کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ سناتن دھرم کی روایات میں احترام، ہمدردی اور امن کا احساس پاتے ہیں۔

اس جوڑے کے دو بیٹوں کے نام روشن اور روہن جبکہ بیٹی کا نام اننیا رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سہارنپور سے تعلق رکھنے والے ابراہیم نے بھی ہندو دھرم اختیار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اپنا نام ویرات پونڈیر رکھ لیا ہے۔

مذہبی تبدیلی کی یہ تقریب تیرتھ سیوا نیاس کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کی نگرانی ادارے کے صدر تیرتھاچاریہ سنت رام وشال داس مہاراج نے کی۔ تقریب کے دوران گنگا اشنان کے بعد ویدک منتر پڑھے گئے اور مختلف مذہبی رسومات ادا کی گئیں۔

تیرتھ سیوا نیاس کے صدر سنت رام وشال داس مہاراج نے کہا کہ ان کے ادارے کا مقصد معاشرے میں مذہب، اقدار اور خدمت کے بارے میں بیداری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنگا، یَگْیہ، مذہبی رسومات اور خاندانی اقدار سناتن روایات میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

مذہب کی تبدیلی سے متعلق یہ تفصیلات منتظمین اور متعلقہ افراد کے بیانات پر مبنی ہیں۔