یونیورسٹی کے 3 مسلم طلبہ پر مبینہ حملہ، داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر ’جہادی‘ کہہ کر تشدد کا الزام
دو درمیانی عمر کے افراد نے ایک اسکوٹی پر سوار ہوکر اسپتال کے قریب انہیں روک لیا اور مبینہ طور پر ان سے بحث شروع کردی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں افراد کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور وہ ان کے لیے بالکل اجنبی تھے۔
نئی دہلی: کولکتہ میں عالیہ یونیورسٹی کے تین طلبہ پر مبینہ طور پر فرقہ وارانہ گالم گلوچ اور حملے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ طلبہ کے مطابق یہ واقعہ 24 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب وہ یونیورسٹی کے تل تلہ کیمپس سے سیالدہ ریلوے اسٹیشن کی طرف جارہے تھے۔ تینوں طلبہ محمد عاشق بلاہ، معیجم حسین اور حسنور جمان عالیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اسلامیات میں زیر تعلیم ہیں۔
طلبہ کے مطابق دو درمیانی عمر کے افراد نے ایک اسکوٹی پر سوار ہوکر اسپتال کے قریب انہیں روک لیا اور مبینہ طور پر ان سے بحث شروع کردی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دونوں افراد کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور وہ ان کے لیے بالکل اجنبی تھے۔ ان کے مطابق دونوں افراد نے مبینہ طور پر ان پر گالی دینے کا الزام لگایا، جس کی طلبہ نے تردید کی اور کہا کہ وہ یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور انہوں نے کسی کو گالی نہیں دی۔
محمد عاشق بلاہ کے مطابق بحث کے دوران ایک شخص نے اسے مبینہ طور پر تھپڑ مارا اور دونوں افراد نے ہندی میں گالم گلوچ شروع کردی۔ طالب علم کا الزام ہے کہ دونوں نے ان کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر انہیں مبینہ طور پر "جہادی” اور "جنگی” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔ عاشق کے مطابق جب طلبہ نے کسی قسم کی جوابی کارروائی نہیں کی تو دونوں افراد اسکوٹی سے اتر آئے اور مبینہ طور پر تینوں پر حملہ کردیا۔
طلبہ کا الزام ہے کہ حملے کے دوران انہیں تھپڑ اور گھونسے مارے گئے، ان کے کپڑے بھی کھینچے گئے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ عاشق نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور اسے زبردستی ایک گلی کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے تھے، جس پر اس کے ساتھی معیجم اور حسنور نے اسے بچانے کی کوشش کی۔ اسی دوران دونوں پر بھی مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نمائندے محمد موتاسم بلاہ نے متاثرہ طلبہ سے بات کرنے کے بعد دعویٰ کیا کہ حسنور کے چہرے پر گھونسہ مارا گیا، جس سے اس کے دانتوں سے خون نکلنے لگا۔
طلبہ نے بعد میں یونیورسٹی کو تحریری شکایت دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تل تلہ مارکیٹ کے قریب کچھ افراد نے انہیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ دیگر طلبہ کے ساتھ تل تلہ پولیس اسٹیشن پہنچے اور واقعے کے بارے میں پولیس سے رجوع کیا۔
طلبہ کے نمائندے کا الزام ہے کہ پولیس اسٹیشن میں انہیں ایف آئی آر درج کرانے کے بجائے صرف تحریری شکایت دینے کا مشورہ دیا گیا، تاہم طلبہ نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مکمل تفصیلات تحریری طور پر دینے پر اصرار کیا۔ اسی دوران مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص بھی پولیس اسٹیشن پہنچا اور عاشق کو دھمکانے کی کوشش کی۔ طلبہ نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرکے واقعے کی حقیقت معلوم کی جائے۔
طلبہ کا مزید الزام ہے کہ ایک مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر نے انہیں ایف آئی آر درج کرانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف بھی جوابی مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔ طلبہ کے نمائندے کے مطابق تینوں طالب علم غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور قانونی کارروائی کے اخراجات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر انہوں نے فی الحال ایف آئی آر پر اصرار کرنے کے بجائے پولیس سے علاقے میں حفاظتی اقدامات اور طلبہ کی آمدورفت کے راستوں پر سکیورٹی بڑھانے کی درخواست کی ہے۔
عالیہ یونیورسٹی کے طلبہ نمائندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاقے میں طالبات کو بھی اس سے قبل مبینہ طور پر اسلام مخالف توہین آمیز الفاظ کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم خوف اور تنہا ہونے کی وجہ سے بعض طالبات نے باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ طلبہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، جبکہ پولیس یا مبینہ حملہ آوروں کا موقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔