تلنگانہ

2 ستمبر کے بعد وزیر کونڈا سریکھا کے خلاف کارروائی کا امکان، کے سی وینوگوپال کی واپسی کا انتظار

اطلاعات کے مطابق کے سی وینوگوپال 2 ستمبر کو دہلی پہنچیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے دی گئی سفارشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد کونڈا سریکھا کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق فیصلہ لیا جائے گا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی وزیر کونڈا سریکھا کے معاملے میں 2 ستمبر کے بعد کارروائی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اس وقت بیرون ملک ہیں اور ان کی واپسی کے بعد ہی اس معاملے میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق کے سی وینوگوپال 2 ستمبر کو دہلی پہنچیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے دی گئی سفارشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد کونڈا سریکھا کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق فیصلہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرم مارک نے کونڈا سریکھا کے معاملے میں مداخلت یا مصالحت کرنے سے مبینہ طور پر انکار کردیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھٹی وکرم مارک اس معاملے میں مداخلت کے خواہاں نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ کونڈا سریکھا کے معاملے میں ڈسپلنری کمیٹی کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا۔

اب کانگریس قیادت کی توجہ کے سی وینوگوپال کی واپسی پر مرکوز ہے۔ ان کے دہلی پہنچنے کے بعد ڈسپلنری کمیٹی کی سفارشات پر غور کیے جانے اور وزیر کونڈا سریکھا کے معاملے میں پارٹی کا حتمی موقف سامنے آنے کی توقع ہے۔