حیدرآباد

ایم آئی ایم اراکینِ اسمبلی کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات، آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف شکایت درج

مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز نے آج پارٹی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے لیٹر ہیڈ پر درج شکایت کے ساتھ وی سی سجنار، کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات کی۔

حیدرآباد: مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز نے آج پارٹی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے لیٹر ہیڈ پر درج شکایت کے ساتھ وی سی سجنار، کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتھ بسوا سرما کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر نفرت انگیز مواد پوسٹ کرنے سے متعلق باضابطہ شکایت پیش کی گئی۔

متعلقہ خبریں
رکن اسمبلی ماجد حسین اور فیروز خان کے خلاف کارروائی کا انتباہ
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر

اس موقع پر ایم ایل اے احمد بلعلہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند دن قبل آسام کے وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں ایک ضعیف مسلمان اور ایک نوجوان مسلمان کو گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بعد میں اگرچہ یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی، تاہم اس کے اسکرین شاٹس اور ویڈیوز اب بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، جو شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ایم آئی ایم کے ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز بھی موجود تھے۔

ایم ایل اے احمد بلعلہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات اور فیصلوں کے مطابق کسی بھی فرد یا طبقے کے خلاف مذہبی نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، خاص طور پر ایسے مناظر دکھانا جو فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دیں، آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مواد سے سماج میں ہندو مسلم نفرت کو فروغ ملتا ہے اور یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کمشنر پولیس نے شکایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور یقین دہانی کرائی کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور مناسب دفعات کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔ ایم آئی ایم قیادت نے مطالبہ کیا کہ نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ سماجی ہم آہنگی اور امن برقرار رکھا جا سکے۔