ہائے رے مسلمانوں کی بے حسی
حضرت شیخ سعدی نے کیاخوب فرمایا تھا کہ ’’ اگر تم آج اپنی آنکھیں نہیں کھولوں گے تو کل پچھتاؤے کے اندھیرے میں آنکھیں کھولنی پڑے گی۔ اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ’’بیداری یہ نہیں کہ انسان کی آنکھ کھل جائے بیداری یہ ہے کہ انسان کا ضمیر جاگ جائے‘‘۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی عدم بیداری اور بے حسی پر بحث ہورہی ہے۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
l ظلم کے سامنے جھکنا صبر نہیں ۔ اپنے اصولوں کو زندہ رکھنا حقیقی صبر ہے ۔
l ہم خاموش نہیں مگر پُرامن ہیں ۔ l ہم بے حس نہیں مگر بے قابو بھی نہیں۔ l آج کا مطالبہ شعور ، اتحاد اور کردار کی ضرورت
حضرت شیخ سعدی نے کیاخوب فرمایا تھا کہ ’’ اگر تم آج اپنی آنکھیں نہیں کھولوں گے تو کل پچھتاؤے کے اندھیرے میں آنکھیں کھولنی پڑے گی۔ اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ’’بیداری یہ نہیں کہ انسان کی آنکھ کھل جائے بیداری یہ ہے کہ انسان کا ضمیر جاگ جائے‘‘۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی عدم بیداری اور بے حسی پر بحث ہورہی ہے۔ مسلمانوں کی بے حسی کے کئی وجوہات ہیں۔
آج کا مسلمان بے شمار مسائل سے گھرا ہوا ہے، مگر ان سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہم بے حسی کا شکار ہوگئے ہیںاور ہماری بے عملی بھی قابل ذکر ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں ظلم، ناانصافی، غربت یا انسانی المیہ جنم لے، چند لمحوں کے لیے ہماری توجہ ضرور اس طرف جاتی ہے، لیکن اکثر یہ توجہ مستقل اور مؤثر عمل میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔
(الرعد: 11) ہم دوسروں کے دکھ پر افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں شیئر کرتے ہیں اور جذباتی گفتگو کرتے ہیں، لیکن جب عملی کردار ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ یہی فرق ہمارے جذبات اور کردار کے درمیان ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتا ہے۔ اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے حق بات کہنی چاہیے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں برائی کو برا سمجھنا چاہیے۔
(صحیح مسلم) اس سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی شخص ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ اسلام نے مسلمان کو صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کا درس نہیں دیا۔ اس نے انسان کو اپنے خاندان، پڑوسی، معاشرے اور پوری انسانیت کے بارے میں جواب دہ بنایا ہے۔ نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ایمان کا تقاضا ہے۔ (المائدہ: 2) اگر ہمارے آس پاس کوئی بھوکا، مظلوم، تعلیم سے محروم یا مدد کا محتاج ہے تو صرف افسوس کرنا کافی نہیں؛ جہاں ہماری استطاعت ہو، وہاں عملی قدم اٹھانا لازم ہے۔ پڑوسی کے حقوق پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وراثت میں بھی شریک کر دیا جائے گا۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بے حسی صرف خاموش رہنے کا نام نہیں۔ ناانصافی کو معمول سمجھ لینا، دوسروں کے مسائل کو ہمیشہ کسی اور کی ذمہ داری قرار دینا، جھوٹی خبروں کو پھیلانا اور اپنی اجتماعی کمزوریوں پر غور نہ کرنا بھی بے حسی کی خطرناک شکلیں ہیں۔ انصاف کرو، یہی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے۔ (المائدہ: 8) اس لیے مظلوم کی مدد کرنا، خبر کی تحقیق کرنا، جھوٹ سے بچنا اور ظلم کے خلاف مہذب مگر مؤثر آواز بلند کرنا ہماری دینی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ البتہ اس صورتِ حال کا علاج صرف تنقید نہیں۔ اصلاح کا آغاز ہمیں خود سے کرنا ہوگا۔ اپنے گھروں میں اخلاق، کاروبار میں دیانت، معاشرے میں تعاون، کمزوروں کے لیے مدد، علم کے حصول اور حق بات کہنے کی جرأت پیدا کرنا ہوگی۔ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ (المعجم الأوسط للطبرانی؛ اس روایت کو اہلِ علم نے حسن قرار دیا ہے)
عملی طور پر ہم کسی مستحق طالب علم کی فیس ادا کر سکتے ہیں، محلے کے بیمار یا بزرگ کی خبرگیری کر سکتے ہیں، خون عطیہ کر سکتے ہیں یا کسی ضرورت مند خاندان کے لیے مستقل راشن کا انتظام کر سکتے ہیں۔ چھوٹے مگر مسلسل اقدامات ہی بڑے اجتماعی نتائج پیدا کرتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان محض جذباتی ردِعمل دینے والی قوم نہ رہے بلکہ علم، کردار، اتحاد، خدمت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنائے۔ ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ جس تبدیلی کی ہم دنیا سے توقع رکھتے ہیں، کیا اس کے لیے ہم خود بھی کچھ کر رہے ہیں؟ اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (الحجرات: 10)
حقیقی اخوت محض الفاظ نہیں؛ یہ دکھ درد میں شریک ہونے، اختلاف کے وقت انصاف کرنے اور ضرورت کے لمحے ایک دوسرے کا مضبوط سہارا بننے کا نام ہے۔ قوموں کی حالت نعروں سے نہیں بدلتی۔ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب افراد اپنی ذمہ داری کو پہچانتے ہیں اور اپنے حصے کا کام دیانت، استقامت اور اخلاص کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)
والدین اپنی اولاد کی تربیت، استاد اپنے طلبہ کی رہنمائی، تاجر اپنے معاملات کی دیانت اور شہری اپنے معاشرے کی بھلائی کے بارے میں جواب دہ ہے۔ بے حسی کا علاج وقتی جذبات نہیں، بیدار شعور، مضبوط کردار اور مسلسل عمل ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ظلم کا جواب دوسرے ظلم سے نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو ہمارا مطالبہ بھی انصاف ہی ہونا چاہیے۔ احتجاج ہو تو پُرامن ہو، آواز بلند ہو تو دلیل کے ساتھ ہو، اور مطالبہ ہو تو قانون کے دائرے میں ہو۔آج مسلمانوں کو صرف جذبات کی نہیں، شعور، اتحاد اور کردار کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ غصے کے لمحے میں پتھر اٹھانا آسان ہے، لیکن اپنے حق کے لیے دلیل، قانون اور صبر کے ساتھ کھڑا رہنا زیادہ بڑی طاقت ہے۔ظلم چاہے کسی فرد پر ہو یا کسی گروہ پر، اس کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے۔ مگر اس آواز میں نفرت نہیں، انصاف کا مطالبہ ہونا چاہیے؛ انتقام نہیں، حق کی جستجو ہونی چاہیے۔ ہم خاموش نہیں، مگر پُرامن ہیں۔ہم بے حس نہیں، مگر بے قابو بھی نہیں۔ہم اپنے حق سے دستبردار نہیں، مگر کسی بے گناہ کا حق بھی نہیں چھینیں گے۔یہی صبر ہے، یہی شعور ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر مظلوم اپنی آواز کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
ظلم کے سامنے جھکنا صبر نہیں؛ظلم کے خلاف ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے اخلاق اور اصولوں کو زندہ رکھنا حقیقی صبر ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ یعنی اگر زمین والے حکمران مظلوموں پر رحم نہیں کریں گے تو پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان والا ان کو نیست و نابود کردے۔ ہرحال میں صبر کا دامن نہ چھوٹے اسی پس منظر میں کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
شکوہ تو سبھی کرتے ہیں حالات کا لیکن
جو صبر سکھاتا ہے وہ انسان الگ ہے
٭٭٭