اسلامیہ ہائی اسکول میں عرسِ حضرت شاہ محمد حسینیؒ کی تقریب
س موقع پر مرکزی میلاد کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریری، تحریری اور نعتیہ مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن (اول، دوم اور سوم) حاصل کرنے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔
ورنگل : انتظامی کمیٹی ایڈیڈ اسلامیہ ہائی اسکول شیر پورہ، ورنگل کے زیراہتمام بانیِ ادارہ، برگزیدہ صوفی بزرگ حضرت سید شاہ محمد حسینی قبلہؒ کے ۱۰۶ ویں عرسِ مبارک کے پُرمسرت موقع پر اسکول احاطے میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد عمل میں لایا گیا، جس میں محفلِ درود، نعتیہ و تقریری نشست اور طلباء میں تقسیمِ انعامات کی تقریب شامل تھی۔ تقریب کی صدارت صدر مدرس جناب محمد عبدالخالق تنویر (ایم اے کے تنویر) نے انجام دی، جبکہ سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت حاجی صاحب قبلہؒ، حضرت شاہ غوث احمد محمودی نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت فرما کر محفل کو رونق بخشی۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز کلامِ پاک کی روح پرور تلاوت سے ہوا، جس کے بعد اسکول کے طلباء و طالبات نے بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں گلہائے عقیدت و محبت نچھاور کرتے ہوئے مدحت کے ترانے پیش کیے۔ بعد ازاں، مہمانِ خصوصی حضرت شاہ غوث احمد محمودی کے دستِ مبارک سے مستحق اور ہونہار طلباء و طالبات میں انعامات اور خصوصی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر مرکزی میلاد کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریری، تحریری اور نعتیہ مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشن (اول، دوم اور سوم) حاصل کرنے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔
تقریب سے اپنے بصیرت افروز خطاب میں حضرت شاہ غوث احمد محمودی نے ارکانِ اسلام، بالخصوص نماز کی اہمیت و فضیلت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز خالق اور بندے کے درمیان تعلق کو استوار کرنے کا بنیادی اور سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ دلوں کو پاکیزگی، اطمینان اور خوفِ خدا کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ انہوں نے طلباء اور حاضرین کو پانچ وقت کی نماز کا پابند بننے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ نماز محض ایک فرض نہیں بلکہ قلبی سکون اور روحانی پاکیزگی کی ضامن ہے۔
صدرِ اجلاس جناب ایم اے کے تنویر نے طلباء سے مخاطب ہو کر تعلیم و تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں علم ہی انسان کے شعور کو نکھارنے، اچھے اور برے میں تفریق کرنے اور حقوق و فرائض کی تفہیم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ علم کو اپنی زندگی کا اولین نصب العین بنائیں تاکہ نہ صرف ان کا مستقبل تابناک ہو بلکہ وہ ایک اچھے، بااخلاق اور ذمہ دار شہری کے طور پر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر اساتذہ، معلمات اور طلباء و طالبات نے بارگاہِ رب العزت میں فاتحہ خوانی کی، چادرِ گل پیش کی اور صلوٰۃ و سلام کے نذرانے کے بعد ملکی امن و امان اور تعلیمی ترقی کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اس تقریب میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کے ارکان جن میں خواجہ محمود شریف طاہر، محمد نعیم الدین، محمد محمود حسین، عفت فاطمہ، عشرت بانو، خواجہ بدر الزماں، حسینہ بیگم، طیبہ فاطمہ اور محمد انکشاف حسین شامل ہیں، نے شرکت کی جبکہ طلباء و طالبات اور محبانِ اسلامیہ کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔