مودی اور پوتن کے درمیان قریبی تجارتی تعلقات اور 2030 اقتصادی تعاون پروگرام پر تبادلہ خیال
ہندوستان اور روس کے درمیان انفراسٹرکچر، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے نئی دہلی میں ملاقات کے بعد کہا کہ انہیں صدر پوتن سے دوبارہ ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کی اس سے قبل کرغزستان کے شہر بشکیک میں ملاقات ہوئی تھی، جسے ابھی دو ہفتے بھی نہیں گزرے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ آج کی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے قریبی تجارتی تعلقات کے فروغ اور 2030 کے لیے اقتصادی تعاون پروگرام پر عمل درآمد سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان انفراسٹرکچر، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ مودی نے کہا کہ 2026 میں ہندوستان کی BRICS صدارت کے دوران دنیا کی فلاح و بہبود کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جن میں مغربی ایشیا اور بحیرۂ اسود کے خطے کے تنازعات شامل ہیں۔ ان تنازعات کے باعث سمندری تجارت اور ہندوستانی بحری جہازوں کے عملے کی سلامتی متاثر ہوئی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ہندوستان تنازعات کے حل کے لیے امن کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے اور بات چیت و سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا بہترین راستہ ہے۔
وزارت خارجہ (MEA) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، توانائی، خلائی شعبے، ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبے شامل تھے۔
دونوں رہنماؤں نے روس کی بین الاقوامی صنعتی نمائش ’INNOPROM India‘ کا خیرمقدم کیا، جو پہلی مرتبہ ہندوستان میں 9 سے 11 ستمبر 2026 تک منعقد ہوئی۔ دونوں نے اس نمائش کو تجارتی اور صنعتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم قرار دیا۔
وزیر اعظم مودی اور صدر پوتن نے خود بھی INNOPROM India نمائش کا دورہ کیا اور وہاں موجود شرکاء سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی سطح پر ہندوستان اور روس کے تعلقات، بالخصوص 2026 میں ہندوستان کی زیرِ صدارت BRICS کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور بحیرۂ اسود کے خطے میں جاری تنازعات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان تنازعات نے سمندری تجارت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بحری عملے کی حفاظت اور سلامتی کو متاثر کیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور ہندوستان امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور روس کے درمیان خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور انہوں نے اس شراکت داری میں مضبوطی اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔