آندھراپردیش

اے پی حکومت کا ریونت ریڈی کے دعووں کو تسلیم کرنے سے انکار۔ رائل سیما لفٹ پراجکٹ پر لفظی جنگ تیز

ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ان کی درخواست اور احترام میں اس پراجکٹ کا کام روکا ہے تاہم اے پی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ اس پراجکٹ کی معطلی کا موجودہ حکومت کے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حیدرآباد: آندھرا پردیش حکومت نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے اس دعوے کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے کہ آندھرا کی مخلوط حکومت نے تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے رائل سیما لفٹ پراجکٹ کو روک دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
پارٹی کو جانشینوں کے حوالے کرنے کی ذمہ داری لیں۔ کیڈر کو چیف منسٹر نائیڈو کا مشورہ
وزیراعلی تلنگانہ نے داوس میں اہم ملاقاتوں کا آغاز کردیا
پرگتی بھون میں عثمان الھاجری کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ سے ملاقات
بچوں کے سامنے ہوم گارڈ کا خاتون کے ساتھ ’مجرا‘ — ویڈیو وائرل ہونے کےبعد محکمہ نے فوراً ڈیوٹی سے ہٹا دیا

ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ان کی درخواست اور احترام میں اس پراجکٹ کا کام روکا ہے تاہم اے پی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ اس پراجکٹ کی معطلی کا موجودہ حکومت کے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حکومت کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی کے دور اقتدار میں یہ منصوبہ ضروری قانونی اور ماحولیاتی منظوریوں کے بغیر شروع کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس وقت بڑے پیمانہ پر یہ پروپگنڈہ کیا گیا تھا کہ رائل سیما کو روزانہ 3 ٹی ایم سی پانی فراہم کیا جائے گا لیکن حقیقت میں منظوری کے بغیر ہی کام شروع کر دیا گیا تھا۔

آندھرا پردیش حکومت نے یاد دلایا کہ تلنگانہ کی سابقہ حکومت نے ہی اس پراجکٹ کو عدالتوں، مرکز اور نیشنل گرین ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔ ان شکایات کے بعد حکام نے معاملہ کا جائزہ لیا اور قانونی اجازت ناموں کی عدم موجودگی کی وجہ سے کام روکنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ احکامات 2020 میں ہی جاری ہو چکے تھے جو کہ 2024 میں چندرابابو نائیڈو کے اقتدار سنبھالنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اے پی حکومت نے تلنگانہ کی سیاسی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سیاست کو چندرابابو مرکز بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت نے دو ٹوک لفظوں میں واضح کیا کہ آندھرا پردیش اپنے پانی کے حقوق اور رائل سیما کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جلد ہی اس پراجکٹ کی شروعات، منظوریوں کی کمی اور کام رکنے کی اصل وجوہات سے متعلق تمام دستاویزی شواہد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔