حیدرآباد

مرزا رحمت بیگ کو تین دن پہلے ہی اسدالدین اویسی کی وارننگ، ’’مسئلہ حل نہ کیا تو پارٹی سے نکال دیں گے‘‘

ایم آئی ایم سے حال ہی میں برطرف کیے گئے قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے اخراج سے تین دن قبل ہی صدر ایم آئی ایم اسدالدین اویسی نے مبینہ طور پر خبردار کردیا تھا۔ اویسی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور معاملے کو حل کریں، ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حیدرآباد: ایم آئی ایم سے حال ہی میں برطرف کیے گئے قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے اخراج سے تین دن قبل ہی صدر ایم آئی ایم اسدالدین اویسی نے مبینہ طور پر خبردار کردیا تھا۔ اویسی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ پارٹی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں اور معاملے کو حل کریں، ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

مرزا رحمت بیگ سے متعلق اپنے بیان میں اسدالدین اویسی نے کہا کہ ان کے پاس مسئلہ حل کرنے کا ایک موقع موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ بیٹھ کر بات کی جائے اور معاملے کو حل کیا جائے، بصورت دیگر پارٹی سے بیدخل کیا جا سکتا ہے۔

اویسی نے مبینہ طور پر یہ بھی واضح کیا کہ اگر پارٹی کی جانب سے کارروائی کی جاتی ہے تو بعد میں یہ کہنا قابل قبول نہیں ہوگا کہ انہیں پارٹی سے کیوں نکالا گیا۔

یہ بیان اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ایم آئی ایم نے بعد میں مرزا رحمت بیگ کو فوری اثر کے ساتھ پارٹی سے برطرف کردیا۔ پارٹی نے انہیں تلنگانہ قانون ساز کونسل کی چیئرپرسن کے پاس اپنا استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

مرزا رحمت بیگ کا معاملہ ایک مبینہ متنازع ویڈیو سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے سائبر کرائم پولیس سے شکایت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بعض افراد انہیں بلیک میل کر رہے ہیں اور مبینہ ڈیپ فیک ویڈیو جاری کرنے کی دھمکی دے کر رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

تاہم پولیس نے اب تک مبینہ ویڈیو کے مواد یا اس کی صداقت کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، لیکن ان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ایم آئی ایم کی جانب سے مرزا رحمت بیگ کی برطرفی اور اس سے قبل اسدالدین اویسی کی وارننگ کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں پارٹی کے فیصلے اور اس کے پس پردہ وجوہات پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

فی الحال پولیس اور ایم آئی ایم کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے، جس کے بعد معاملے کی مکمل صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔