188 کروڑ روپے خرچ، صرف ایک ہزار طلبہ کی تربیت؟ ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی پر سوالات
تلنگانہ کی ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی اپنی کارکردگی کو لے کر اپوزیشن اور ناقدین کی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی نے دو سال کے دوران تقریباً 188 کروڑ روپے خرچ کیے، لیکن اس عرصے میں صرف ایک ہزار طلبہ کو تربیت فراہم کی گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ کی ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی اپنی کارکردگی کو لے کر اپوزیشن اور ناقدین کی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یونیورسٹی نے دو سال کے دوران تقریباً 188 کروڑ روپے خرچ کیے، لیکن اس عرصے میں صرف ایک ہزار طلبہ کو تربیت فراہم کی گئی۔
اس معاملے میں سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں قائم کی گئی تلنگانہ اکیڈمی فار اسکل اینڈ نالج (TASK) سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق TASK نے 2015 سے 2023 کے درمیان تقریباً 8.37 لاکھ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمندی کی تربیت فراہم کی، جبکہ نئی اسکلز یونیورسٹی کی کارکردگی اس کے مقابلے میں انتہائی کم رہی ہے۔
تلنگانہ میں دسمبر 2023 میں کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے مقصد سے ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگست 2024 میں یونیورسٹی کے لیے سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جب TASK پہلے ہی ہنرمندی کی تربیت کے شعبے میں کام کر رہا تھا تو اسی نوعیت کے کام کے لیے ایک نئی یونیورسٹی قائم کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو TASK کو مزید مضبوط بنانے اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر توجہ دینی چاہیے تھی۔
الزامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ذریعے تربیت حاصل کرنے والے تقریباً ایک ہزار افراد میں سے قریب 300 افراد بعد میں Swiggy اور Zomato کے لیے ڈیلیوری کا کام کرنے لگے۔ تاہم، ان دعوؤں اور روزگار سے متعلق اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
TASK کا قیام جون 2015 میں تلنگانہ کے نوجوانوں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ ادارے نے مختلف تعلیمی اداروں اور نجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے طلبہ کو روزگار سے متعلق تربیت فراہم کی۔
ناقدین کے مطابق TASK نے اپنے قیام کے پہلے ہی سال 11 ہزار سے زائد طلبہ کو تربیت دی تھی، جبکہ 2023 میں، جو بی آر ایس حکومت کا آخری سال تھا، تقریباً 1.84 لاکھ طلبہ کو مختلف نوعیت کی اسکل ٹریننگ دی گئی۔
ان اعداد و شمار کے تناظر میں ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین نے ریونت ریڈی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود ادارے کو مضبوط کرنے کے بجائے ایک نیا ادارہ قائم کیا، لیکن وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اب یونیورسٹی کے اخراجات، تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد اور تربیت کے بعد روزگار حاصل کرنے والوں کے اعداد و شمار پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار سے ہی یونیورسٹی کی حقیقی کارکردگی کا مکمل اندازہ ہو سکے گا۔