حیدرآباد

اسلامی مائیکرو فائنانس ‘ معا شی مساوات ، خود کفالت کا ضامن

ایک روزہ اوپن ڈائیلاگ کا اہتمام، ہارورڈ لا اسکول کے شارق نثار کا لیکچر

ایک روزہ اوپن ڈائیلاگ کا اہتمام، ہارورڈ لا اسکول کے شارق نثار کا لیکچر

حیدرآباد : ہارورڈ لا اسکول کے سابق وزیٹنگ فیلو ڈاکٹر شارق نثار نے ہندوستان میں دولت کی غیر مساوی تقسیم کی صورتِ حال پر روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ ملک کی دولت کا ایک بڑا حصہ معاشرے کے محدود طبقے کے پاس ہے، جبکہ نچلے طبقے کے پاس دولت کا بہت کم حصہ موجود ہے، جس سے معاشی عدم مساوات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے مائیکرو فائنانس کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا ایک اہم مقصد کم آمدنی والے افراد کو غربت کے دلدل سے نکالنا ہے اور مائیکرو فائنانس ایسے افراد کو مالی وسائل فراہم کر کے اس دلدل سے اور مشکل سے آزادی دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، مزید انہوں نے مائیکرو فائنانس کے مختلف آپریشنل ماڈلز بیان کیے اور ہندوستان میں مائیکرو فائنانس کے قانونی و انتظامی ڈھانچے پر بھی روشنی ڈالی مجموعی طور پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مائیکرو فائنانس مالی شمولیت، غربت میں کمی اور معاشی خود کفالت کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ اسلامی مائیکرو فائنانس اسی مقصد کو شریعہ کے اصولوں، عدل، ذمہ داری اور حقیقی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وہ حیدرآباد میں معرفہ اکیڈمی، انڈیا کے زیرِ اہتمام ہندوستان میں اسلامی مائیکرو فائنانس اور چھوٹے و متوسط کاروباری اداروں (SMEs) کے موضوع پر ایک روزہ اوپن ڈائیلاگ سے مخاطب تھے۔ پروگرام میں ملک و بیرونِ ملک سے ماہرینِ معاشیات، بینکنگ اور مائیکرو فائنانس سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

پروگرام کے پہلے سیشن کی نظامت ہارورڈ لا اسکول کے سابق وزٹنگ فیلو ڈاکٹر پروفیسر شارق نثار نے کی، جبکہ ابوظہبی سے جناب اکرام الرحمن فلاحی نے تلاوتِ قرآن مجید سے پروگرام کا آغاز کیا۔جناب اسامہ خان نے سہولت مائیکرو فائنانس سوسائٹی کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس کے سود سے پاک مائیکرو فائنانس اور معاشی خود کفالت کے لیے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

 بیت النصر اربن کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد سلیم قاضی نے ادارے کی تاریخ، خدمات اور موجودہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔معرفہ اکیڈمی کے بانی ڈاکٹر عماد علی نے اسلامی مالیاتی نظام میں خود کفالت، حلال روزگار، تجارت، زکوٰۃ و صدقات اور معاشی ذمہ داری کی اہمیت بیان کی۔ اس کے بعد ڈاکٹر شارق نثار نے ہندوستان میں معاشی عدم مساوات، مائیکرو فائنانس کی ضرورت اور اس کے قانونی و انتظامی ڈھانچے پر گفتگو کی۔

ابوظہبی اسلامک بینک میں شریعہ اسٹرکچرنگ کے ہیڈ جناب اکرام الرحمن فلاحی نے اسلامک بینکنگ و فائنانس اور اسلامی مائیکرو فائنانس کے شرعی اصولوں، مقاصدِ شریعہ اور مشارکت پر مبنی مالیاتی ماڈلز پر روشنی ڈالی۔ نشست کے اختتام پر سہولت مائیکرو فائنانس سوسائٹی کے علاقائی ذمہ دار جناب اقبال حسین نے ثروت ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے ماڈل اور ’’Million Smiles – 2030‘‘کے ہدف سے آگاہ کیا۔

دوسرے سیشن میں جناب زید رضوی نے رہبر فنانشل سروسز کے نمائندے کی حیثیت سے ادارے کے متبادل مالیاتی ماڈل، سرمایہ کاری اور SMEs کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت پر تفصیلی گفتگو کی۔دونوں سیشنز کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں اسلامی مائیکرو فائنانس کے فروغ، مالی وسائل، تربیت یافتہ افرادی قوت، اداروں کی پائیداری اور عوام تک خدمات کی رسائی سے متعلق سوالات کے جوابات دیے گئے۔

 جناب زید رضوی نے کیا ، رہبر فائنانشل سروسز کے نمائندے کے طور پر انہوں نے ادارے کے قیام، کاروباری فلسفے، مالیاتی ماڈل اور اسکی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ 2013ئ میں اس مقصد کے ساتھ قائم کیا گیا کہ سود پر مبنی فائنانسنگ اور سرمایہ کاری کے متبادل حل فراہم کیے جائیں اور سرمایہ کاروں کو ایسے کاروباروں سے جوڑا جائے جو منصفانہ و عادلانہ اور متبادل مالیاتی ذرائع کے خواہاں ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ رہبر ایک boutique financial platformکے طور پر کام کرتا ہے جوConscious investorsکو ایسے کاروباروں سے جوڑتا ہے جوboutique finance حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

رہبر کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ادارے نے اب تک 1,600 انفرادی سرمایہ کاروں سے تقریباً 170 کروڑ روپے جمع کیے، جن پر انہیں 55 کروڑ روپے منافع ادا کیا گیا، مزید برآں، گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 350 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی اوراسی طرح  150 سے زائد کاروباروں کو سرمایہ فراہم کرنے میں مدد کی گئی، مجموعی طور پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبر فنانشل سروسز کا مقصد ایسے اخلاقی، منظم اور متبادل مالیاتی حل فراہم کرنا ہے جو سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے فائدہ مند ہوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کی مالی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں۔آخر میں ڈاکٹر عماد علی نے تمام مہمانوں اور شرکائ کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام ہندوستان میں اسلامی مائیکرو فائنانس اور اسلامی بینکاری کے فروغ میں مؤثر ثابت ہوگا۔