امریکہ میں ایچ-ون بی ویزا ہولڈرز کے لیے 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز، ہزاروں ہندوستانیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ-ون بی اور دیگر غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ملازمت ختم ہونے کے بعد دستیاب 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ اگر یہ تجویز نافذ ہوتی ہے تو امریکہ میں کام کرنے والے ہزاروں بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ-ون بی اور دیگر غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ملازمت ختم ہونے کے بعد دستیاب 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ اگر یہ تجویز نافذ ہوتی ہے تو امریکہ میں کام کرنے والے ہزاروں بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی، یعنی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے تیار کی گئی اس تجویز کو ’’اختیاری 60 روزہ رعایتی مدت کا خاتمہ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ تجویز 6 اگست کو وائٹ ہاؤس کے آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیٹری افیئرز کے پاس جائزے کے لیے پیش کی گئی تھی، جس کا عمل اب مکمل ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ نظام کے تحت ایچ-ون بی ویزا رکھنے والے افراد کی ملازمت ختم ہونے کی صورت میں انہیں بعض حالات میں 60 دن تک امریکہ میں رہ کر نئی ملازمت تلاش کرنے اور نئے آجر کے ذریعے اپنے ویزا اسٹیٹس کی منتقلی کا موقع ملتا ہے۔
ماہرین اور بھارتی نژاد امریکی حلقوں نے اس رعایتی مدت کو ختم کرنے کی تجویز پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی، صحت اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نئی ملازمت حاصل کرنے کا عمل طویل ہوتا ہے، جس میں کئی مرحلوں پر مشتمل انٹرویوز اور اس کے بعد ویزا منتقلی سے متعلق قانونی کارروائیاں شامل ہوتی ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتی نژاد رہنما اجے بھوٹوریا نے کہا کہ ایچ-ون بی ملازمین کے لیے 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنا ایک بڑا اور نقصان دہ قدم ہوگا۔ ان کے مطابق کارپوریٹ کمپنیوں میں بھرتی کا عمل اکثر کئی ماہ تک جاری رہتا ہے، جبکہ نئے آجر کے تحت ویزا کی منتقلی کے لیے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صورت میں ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں کو اچانک امریکہ چھوڑنے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں موجود کمیونٹی تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ جب یہ ضابطہ عوامی تبصروں کے لیے پیش کیا جائے تو وہ اپنی رائے اور اعتراضات درج کرائیں۔
واضح رہے کہ 60 روزہ رعایتی مدت جنوری 2017 میں نافذ کی گئی تھی۔ اس کا مقصد اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی اور تارکین وطن پیشہ ور افراد کو ملازمت ختم ہونے کے بعد محدود وقت فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ نئی ملازمت تلاش کر سکیں یا اپنے امیگریشن اسٹیٹس کے حوالے سے ضروری اقدامات کر سکیں۔
ایچ-ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں خصوصی مہارت اور اعلیٰ علمی صلاحیت رکھنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ملازمت دے سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس ویزا پروگرام کے سب سے بڑے صارفین میں شامل ہیں، جبکہ ایچ-ون بی ویزا حاصل کرنے والوں میں بھارتی شہریوں کی تعداد طویل عرصے سے نمایاں رہی ہے۔
اگر 60 روزہ رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اس کے اثرات خاص طور پر امریکہ میں کام کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد، ان کے اہل خانہ اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کی کمپنیوں پر پڑنے کا امکان ہے۔