بین الاقوامی

آسٹریلیائی رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز پر گاڑی سے حملہ، دہشت گردی کا شبہ

آسٹریلیا کی پولیس آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کو گاڑی سے کچلنے کے مبینہ دانستہ حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پیر کو شمال مشرقی وکٹوریہ میں اپنے انتخابی دفتر کے باہر گاڑی کی زد میں آنے سے ہینز شدید زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے حکام بھی تحقیقات میں شامل ہوگئے ہیں۔

کینبرا (یو این آئی) آسٹریلیا کی پولیس آزاد رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز کو گاڑی سے کچلنے کے مبینہ دانستہ حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پیر کو شمال مشرقی وکٹوریہ میں اپنے انتخابی دفتر کے باہر گاڑی کی زد میں آنے سے ہینز شدید زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے حکام بھی تحقیقات میں شامل ہوگئے ہیں۔

وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس واقعے کو حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ حادثہ نہیں تھا، تاہم تفتیش کار ابھی تک اس کے محرکات کا تعین نہیں کر سکے ہیں۔البانیز نے کہا، ”یہ حادثہ نہیں تھا۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ واقعے کے پس پردہ وجوہات کے بارے میں قیاس آرائی کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

آسٹریلیائی میڈیا کے مطابق 65 سالہ ہینز کو مقامی وقت کے مطابق پیر کی سہ پہر تقریباً 3 بج کر 35 منٹ پر وانگارٹا میں مرفی اسٹریٹ واقع ان کے دفتر کے باہر سفید رنگ کی ٹویوٹا لینڈ کروزر نے ٹکر مار دی۔ وانگارٹا، میلبورن سے تقریباً 230 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اس حادثے میں ان کی ٹانگوں پر خاص طور پر شدید چوٹیں آئیں اور ان کی حالت نازک بتائی گئی۔

البانیز نے بتایا کہ واقعے کے مقام سے ایک 43 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کے پہنچنے سے پہلے وہاں موجود لوگوں نے مشتبہ شخص کو پکڑنے میں مدد کی۔ تفتیش کاروں کو گاڑی کے اندر سے ایک چاقو بھی ملا ہے۔آسٹریلوی وفاقی پولیس، وکٹوریہ پولیس اور آسٹریلیائی سکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔

البانیز کے مطابق مشترکہ انسدادِ دہشت گردی ٹیم کو بھی فعال کردیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس کی تصدیق نہیں کی کہ آیا واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردی کا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔البانیز نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں ہینز، ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور حلقۂ انتخاب کے لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور امدادی کارکنوں کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے کہا، ”ہم ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔” وزیر اعظم نے ہینز کو ایک قابلِ احترام رکن پارلیمنٹ اور اپنی برادری کی محبوب شخصیت قرار دیا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے وکٹوریہ کے قائم مقام وزیر اعلیٰ بین کیرول سے بات کی ہے اور آسٹریلیائی وفاقی پولیس کی کمشنر کرسّی بیریٹ سے بھی واقعے کے بارے میں بریفنگ حاصل کی ہے۔

حکام نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ہینز کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا یا واقعہ سیاسی محرکات کا نتیجہ تھا۔ تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعہ آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو درپیش دھمکیوں اور ہراسانی کے بڑھتے خدشات کے درمیان پیش آیا ہے۔