حیدرآباد

حیدرآباد میں مذہبی جلوسوں کے دوران ڈی جے سسٹم اور آتش بازی پر امتناع

حیدرآباد کمشنرپولیس نے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں ڈی جے سسٹم کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کمشنریٹ کی حدود میں مذہبی جلوسوں کے دوران ڈی جے ساؤنڈ سسٹم، مختلف آلات اور آتش بازی کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر سی وی آنند کی جانب سے حال ہی میں عوامی رائے کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
حیدر آباد میں ایک ماہ تک امتناعی احکام نافذ
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر

چند روز قبل حیدرآباد کمشنرپولیس نے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں ڈی جے سسٹم کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی جے کی تیز آواز کی وجہ سے بزرگوں اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ طلبہ کی امتحانات کی تیاری میں بھی خلل واقع ہو رہا ہے۔

اجلاس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے بھی جلوسوں میں ڈی جے سسٹم اور آتشبازی پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی تھی، جس کے بعد حیدرآباد سٹی پولیس نے باضابطہ طور پر ان احکامات کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سماجی سطح پر پیدا ہونے والی صوتی آلودگی کو کم کرنا اور شہریوں کو پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔