امریکہ و کینیڈا

بائیڈن کی بحرالکاہل ممالک کے سربراہوں سے ملاقات

بائیڈن نے کہا کہ وہ ان انتباہات سے آگاہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندری پانی کی سطح میں اضافہ بحرالکاہل کے جزائر کے ممالک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے بحرالکاہل جزائر کے ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ جو بائیڈن نے دوسرے امریکہ۔جزائر پیسیفک اجلاس کے تحت وائٹ ہاؤس میں پیسیفک رہنماؤں کی میزبانی کی جو کل سے شروع ہوا اور دو دن تک جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں
پرائمری انتخابات، بائیڈن کو اسرائیل۔غزہ جنگ پر مخالفت کا سامنا
مودی نے بائیڈن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی
جوبائیڈن 2024 کی یوم جمہوریہ پریڈ میں مدعو

بحر الکاہل ممالک کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے کے بارے میں پیغام دیتے ہوئےبائیڈن نے اس تناظر میں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بات کی۔

بائیڈن نے کہا کہ وہ ان انتباہات سے آگاہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندری پانی کی سطح میں اضافہ بحرالکاہل کے جزائر کے ممالک کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے ، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس خطے کو 20 ملین ڈالر سے زیادہ کی اضافی امداد فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ بحرالکاہل جزائر ممالک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے کانگریس کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ہند-بحرالکاہل کا خطہ آزاد، کھلا، خوشحال اور محفوظ ہو، بائیڈن نے واضح کیا کہ وہ اس مقصد کے مطابق سلامتی کے میدان میں خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

دریں اثنا، سولومون جزائر کے وزیر اعظم مناسی سوگاویر نے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ امریکی حکام نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے بعد اپنے ملک واپس آنے والے سوگاویر کی عدم موجودگی کو مایوسی قرار دیا۔

یاد رہے کہ سوگاویرنے گزشتہ سال امریکہ۔بحرالکاہل ممالک کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کیے تھے جبکہ سولومون جزائر نے بھی چین کے ساتھ سلامتی معاہدے پر دستخط کر کے دنیا کی توجہ حاصل کی تھی ۔

وانواتو کے وزیر اعظم ساتو کِلمان، اپنے ملک کی پارلیمان میں ہونے والے اعتماد کے ووٹ کی وجہ سے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔