امریکہ و کینیڈا

امریکی صدر جوبائیڈن کا قوم کو اتحاد کا پیغام، زبان پھر پھسل گئی

امریکی صدر 81 سالہ جو بائیڈن اب اکثر اپنے ذہن اور زبان میں تال میل قائم رکھ نہیں پاتے اور مختلف الفاظ اور ناموں پر ان کی زبان پھسل جاتی ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر 81 سالہ جو بائیڈن اب اکثر اپنے ذہن اور زبان میں تال میل قائم رکھ نہیں پاتے اور مختلف الفاظ اور ناموں پر ان کی زبان پھسل جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں
ای وی ایم کے قابل بھروسہ ہونے پر شکوک و شبہات کا اظہار : ڈگ وجئے سنگھ
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
پارٹی رہنماؤں کی بڑھتی مخالفت: جو بائیڈن کی بطور دوبارہ صدارتی امیدوار نامزدگی ملتوی
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش

گزشتہ روز ایک بار پھر اس وقت جوبائیڈن کی زبان پھسلی جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے حملے کے بعد قوم سے خطاب کر رہے تھے، اور سیاسی ماحول کی گرما گرمی کو ٹھنڈا کرنے کا مؤقف پیش کر رہے تھے۔

وہ کہہ رہے تھے کہ سیاسی اختلافات بیلٹ باکس سے حل ہوتے ہیں، گولی سے نہیں، لیکن ان کی زبان پھسل گئی اور انھوں نے بیلٹ باکس کو بَیٹل باکس کہہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تشدد سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا، اگر معاملات کو درست کرنا ہے تو رائے دہی کا طریقہ ہی اختیار کرنا پڑے گا، تاہم اس مرحلے پر وہ ووٹوں کے باکس کو ’’لڑائی کا باکس‘‘ کہہ گئے۔

اس مختصر تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ گرما گرمی بہت ہوئی، اب سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جائے، اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں، اسے ٹھنڈا کرنے کا وقت آ گیا ہے،

انھوں نے کہا یہ مفاہمت کا وقت ہے کیوں کہ غیر ملکی ایکٹرز ہمارے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، اختلافات بیلٹ باکس کے ذریعے حل کرتے ہیں، گولی سے نہیں۔