حیدرآباد

تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی کی تیاریاں

آنے والے 9ماہ کو تین مرحلوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ رتھ یاترا کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے جس کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ریاست میں پارلیمانی حلقوں کی بنیاد پر یہ رتھ یاترا نکالی جائے گی اورتمام لوک سبھاحلقوں کا احاطہ کیاجائے گا۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔انتخابات کیلئے کم وقت کے پیش نظر پارٹی کو عوام کے درمیان جانے کے لئے رتھ یاترا کا سہارالیاجائے گاجس کا منصوبہ تیارکیاجارہا ہے۔ساتھ ہی زعفرانی جماعت نے نچلی سطح سے پارٹی کو مستحکم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دھان کی خریداری میں دھاندلیوں کی سی بی آئی جانچ کروائے گی:بی جے پی
فنڈز تو مختص ہوئے، مگر خرچ کیوں نہیں؟ تلنگانہ میں 75 فیصد اقلیتی بہبود بجٹ غیر استعمال شدہ
سچے دل سے توبہ کرنے والوں کیلئے مغفرت کے دروازے کھل جاتے ہیں: مولانا حافظ پیر شبیر احمد
بھینسہ میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے مسلم ملازم پر قاتلانہ حملہ، فرقہ پرست عناصر کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
ایس ایس سی امتحانات کی تیاری: مفتی ڈاکٹر حافظ صابر پاشاہ قادری کی طلبہ کو اہم ہدایات

آنے والے 9ماہ کو تین مرحلوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہ رتھ یاترا کے پروگرام منعقد کئے جائیں گے جس کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ریاست میں پارلیمانی حلقوں کی بنیاد پر یہ رتھ یاترا نکالی جائے گی اورتمام لوک سبھاحلقوں کا احاطہ کیاجائے گا۔

تمام پارلیمانی حلقوں میں زعفرانی جماعت کے لیڈروں کے دورہ کو یقینی بنانے کیلئے پانچ بسوں کو تیار رکھاجائے گا۔بی جے پی کے ریاستی صدربنڈی سنجے کے دورہ کیلئے خصوصی بس تیار کی جارہی ہے۔اس یاترا میں پارٹی کے اہم لیڈروں کو ترجیح دی جائے گی۔

چارگاڑیوں میں ان چارپارلیمانی حلقوں کے اہم لیڈران ہوں گے۔ان کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا کے لکشمن، مرکزی وزیرسیاحت کشن ریڈی،بی جے پی کی قومی نائب صدر ڈی کے ارونا، حضورآباد کے بی جے پی کے رکن اسمبلی ای راجندر،سینئر لیڈرکونڈاوشویشور اور دیگر بھی ہوں گے۔

رتھ یاترا کو مرحلہ وار طورپر منعقد کرنے کا منصوبہ تیار کیاجارہا ہے۔تمام لوک سبھا حلقوں کا پانچ گاڑیوں کے ذریعہ مکمل طورپر احاطہ کیاجائے گا۔مرحلہ وار طورپر پانچ گاڑیاں ان حلقوں کا دورہ کریں گی۔بنڈی سنجے کے بشمول دیگر لیڈروں کے دورہ کے لئے ایکشن پلان تیارکیاجارہا ہے۔

اس رتھ یاترا کے ذریعہ پارٹی کے استحکام کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت کے پروگراموں پر عمل کا جائزہ لیاجائے گا، ساتھ ہی ریاستی حکومت کی ناکامیوں اور مخالف عوام رویہ کو بھی اجاگر کیاجائے گا۔