مشرق وسطیٰ

آرامکو کی آئل ریفائنری پر بموں کی بارش کی گئی 136 ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملا -ویڈیو وائرل

راس تنورا آئل ریفائنری دنیا کے بڑے تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا قوی امکان ہے

ایران کے حملوں کے پس منظر میں سعودی عرب کا بڑا اور حساس فیصلہ، عالمی منڈی میں تیل بحران کا خدشہ

متعلقہ خبریں
خلیج عدن میں جہاز پر ڈرون حملہ، ہندوستانی بحریہ نے جواب دیا
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
سعودی عرب میں میڈیکل و انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر IIPA کا رہنمائی سیشن
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایک انتہائی اہم اور چونکا دینے والا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کی جانب سے حالیہ فضائی و ڈرون حملوں کے بعد سعودی حکام نے دنیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں شمار ہونے والی راس تنورا آئل ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے جوابی کارروائی کے تحت سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق شاہد-136 ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں میں آرامکو کی آئل ریفائنری پر بموں کی بارش کی گئی، جس کے نتیجے میں ریفائنری کے اہم حصے تباہ ہو گئے اور بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے باعث ریفائنری میں تکنیکی نظام بری طرح متاثر ہوا، جس سے تیل کی پیداوار اور ترسیل کو شدید نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی خدشات اور مزید ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے راس تنورا آئل ریفائنری کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

معاشی ماہرین اور توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ راس تنورا آئل ریفائنری دنیا کے بڑے تیل برآمدی مراکز میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال طویل ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایندھن کی قلت اور کئی ممالک میں معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

https://twitter.com/i/status/2028408456844300498

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے دنوں میں سعودی عرب اور ایران کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔