سری چیتنیا اسکول کے ہاسٹل میں دسویں جماعت کے طالب علم پر مبینہ وحشیانہ تشدد، حالت تشویشناک
متاثرہ طالب علم کی شناخت ابھیشیک کے طور پر ہوئی ہے، جو کاماریڈی کا رہنے والا اور سری چیتنیا ہائی اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اطلاعات کے مطابق رات کے وقت تقریباً 12 طلبہ نے مبینہ طور پر ہاسٹل میں ابھیشیک پر حملہ کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے میڈچل–ملکاجگیری ضلع کے دمائی گوڑہ میں واقع سری چیتنیا ہائی اسکول کے ہاسٹل میں دسویں جماعت کے ایک طالب علم کو مبینہ طور پر سینئر طلبہ نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد طالب علم کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
متاثرہ طالب علم کی شناخت ابھیشیک کے طور پر ہوئی ہے، جو کاماریڈی کا رہنے والا اور سری چیتنیا ہائی اسکول میں دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اطلاعات کے مطابق رات کے وقت تقریباً 12 طلبہ نے مبینہ طور پر ہاسٹل میں ابھیشیک پر حملہ کیا۔
والدین کے مطابق حملہ آور طلبہ نے ابھیشیک کو لاٹھیوں اور پلیٹوں سے مارا اور مبینہ طور پر اس کے چہرے پر جوتوں سے بھی وار کیے۔ شدید حملے کے باعث طالب علم کو سنگین چوٹیں آئیں اور اس کی حالت نازک ہوگئی۔
متاثرہ طالب علم کے والدین کا الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ نے انہیں فون کرکے بتایا کہ ان کا بیٹا سیڑھیوں سے گر گیا ہے اور اسے شدید چوٹیں آئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی والدین اسکول پہنچے اور اپنے بیٹے کو گھر لے گئے، جس کے بعد اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ابھیشیک کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث وہ فی الحال اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
والدین کے مطابق بعد میں ابھیشیک نے انہیں بتایا کہ سینئر طلبہ نے ریگنگ کے بہانے اس پر حملہ کیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد والدین نے پولیس سے شکایت کی اور حملے میں ملوث طلبہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
متاثرہ طالب علم کے والدین نے حملہ کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ اسکول انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین کا الزام ہے کہ اسکول انتظامیہ نے مبینہ طور پر واقعہ کو چھپانے کی کوشش کی اور حملے کو سیڑھیوں سے گرنے کا حادثہ قرار دیا۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ طالب علم پر حملہ کس حالات میں ہوا اور اس واقعے میں طلبہ کے علاوہ اسکول یا ہاسٹل انتظامیہ کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔