تلنگانہ

تلنگانہ میں ایس آئی آر کی تازہ رپورٹ جاری، 78 فیصد سے زائد فارم ڈیجیٹلائز، حیدرآباد ابھی بہت پیچھے

ایس آئی آر کا مقصد انتخابی فہرستوں میں شامل ووٹروں کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ اور تصدیق کرنا ہے، تاکہ اہل شہریوں کے نام فہرست میں برقرار رہیں اور غلط، غیر متعلقہ یا منتقل ہوچکے ووٹروں کے اندراجات کی نشاندہی کی جاسکے۔ بوتھ سطح کے افسران کے ذریعے ووٹرز کی تفصیلات کی جانچ اور فارموں کی وصولی کے بعد معلومات کو ڈیجیٹل نظام میں درج کیا جارہا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے تحت فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے۔ 9 اگست 2026 کو شام 6 بجے تک ریاست بھر میں 3 کروڑ 38 لاکھ 26 ہزار 448 شمار کنندگی فارم تقسیم کیے جاچکے ہیں، جبکہ ان میں سے 2 کروڑ 64 لاکھ 30 ہزار 494 فارم ڈیجیٹل کیے گئے ہیں۔ اس طرح ریاست میں فارموں کی مجموعی ڈیجیٹلائزیشن 78.14 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تقریباً 73 لاکھ 95 ہزار 954 فارم ابھی ڈیجیٹل کیے جانے باقی ہیں۔

ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق یادادری بھونگیر نے سب سے زیادہ پیش رفت کی ہے، جہاں 94.30 فیصد فارم ڈیجیٹل کیے جاچکے ہیں۔ اس کے بعد جنگاؤں میں 91.69 فیصد، میدک میں 90.54 فیصد، سوریہ پیٹ میں 90.43 فیصد اور محبوب آباد میں 90.07 فیصد فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل ہوئی ہے۔ کئی دیگر اضلاع میں بھی یہ شرح 85 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کے بیشتر علاقوں میں عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب حیدرآباد میں ڈیجیٹلائزیشن کی رفتار نسبتاً کم ہے۔ ضلع حیدرآباد میں مجموعی طور پر 47 لاکھ 36 ہزار 669 ووٹرز ہیں، جن میں سے 27 لاکھ 74 ہزار 687 فارم ڈیجیٹل کیے جاچکے ہیں۔ اس طرح حیدرآباد میں ڈیجیٹلائزیشن کی شرح 58.58 فیصد ہے۔ میڈچل ملکاجگیری میں یہ شرح 63.82 فیصد جبکہ رنگاریڈی میں 64.91 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث حیدرآباد اور اس سے متصل شہری اضلاع میں باقی ماندہ فارموں کی تکمیل پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

ایس آئی آر کا مقصد انتخابی فہرستوں میں شامل ووٹروں کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ اور تصدیق کرنا ہے، تاکہ اہل شہریوں کے نام فہرست میں برقرار رہیں اور غلط، غیر متعلقہ یا منتقل ہوچکے ووٹروں کے اندراجات کی نشاندہی کی جاسکے۔ بوتھ سطح کے افسران کے ذریعے ووٹرز کی تفصیلات کی جانچ اور فارموں کی وصولی کے بعد معلومات کو ڈیجیٹل نظام میں درج کیا جارہا ہے۔

ریاستی سطح پر تمام فارموں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوچکا ہے، تاہم تقریباً 22 فیصد فارموں کی ڈیجیٹلائزیشن ابھی باقی ہے۔ انتخابی حکام کے لیے اب اہم مرحلہ باقی فارموں کو ڈیجیٹل کرنے کے ساتھ ساتھ ریکارڈ کی جانچ اور تصدیق مکمل کرنا ہے۔ خاص طور پر حیدرآباد میں 58.58 فیصد پیش رفت کے پیش نظر آنے والے دنوں میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہوگی۔ چونکہ یہ اعداد و شمار 9 اگست 2026 کی شام 6 بجے تک کے ہیں، اس لیے عمل جاری رہنے کے ساتھ شرح میں مزید تبدیلی متوقع ہے۔